زندہ درخت

by Other Authors

Page 246 of 368

زندہ درخت — Page 246

زنده درخت -28-شام زندگی تحریر محترم امة اللطيف اوائل اپریل 1979 میں قادیان سے خالہ زاد بہن عزیزہ ناصرہ بیگم کا خط آیا جس سے ابا جان کی شدید علالت کا علم ہو اسفر کے سب کام اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر تیزی سے کروا دئے۔آٹھ اپریل کو ابا جان کے پاس پہنچ گئی۔آپ بے حد کمزور تھے اور تکلیف میں تنہا، آنکھیں بند کئے لیٹے تھے۔میں نے آواز دی : ابا جان! آپ نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور بے ساختہ فرمایا۔بچی تمہیں خدا لایا ہے، بہت دیر گلے لگا یا آبدیدہ ہو کر دعائیں دیں۔ابا جان کا ہاتھ کا زخم کافی بڑھ گیا تھا۔آپ نے خود ہی یہ سوچ کر کہ ناموافق نہ ہو گوشت کھانا چھوڑ دیا ہوا تھا اس طرح بیماری اور خوراک کی کمی سے کمزوری بہت ہوگئی تھی۔میں نے سوپ وغیرہ دیا تو صحت بحال ہوئی آپ اُٹھ کر دوست احباب سے ملنے جاتے تو سب کہتے بھائی جی کی بیٹی آ گئی ہے بھائی جی ٹھیک ہو گئے ہیں۔ایک دن جب حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ابا جان سے ملنے تشریف لائے تو میں نے اُن سے آپ کو علاج کے لئے پاکستان لے جانے کی اجازت لے لی۔ابا جان قادیان چھوڑ نا نہیں چاہتے تھے لیکن میرے اصرار اور بتوفیق الہی قادیان پہنچانے کے وعدہ سے آپ مان گئے انہی دنوں ابا جان کے دانت میں تکلیف ہوئی جس کے علاج کے لئے امرتسر جانا پڑا مگر یہ تکلیف مالا طاق تھی بہت کمزور ہو گئے۔بچوں کو بہت یاد کرتے خاص طور پر عزیزم مجید کو۔اللہ تعالیٰ اُسے بھی لے آیا دس مئی کو مجید ، رشیدہ اور پھوپھی جان حلیمہ آپ کے پاس آ گئے اور میں بوجھل دل سے واپس آگئی۔حضرت میاں وسیم احمد صاحب شفقت سے خبر گیری فرماتے اور دعاؤں سے مدد فرماتے۔ایک مکتوب میں عزیز مجید کو تحریر فرمایا: 246