زندہ درخت — Page 214
زنده درخت 27-6-1949 عزیزه لطیف ! آپ کی والدہ نے خربوزہ میٹھا نکلنے پر مجھے یاد کیا میں نے یہاں خربوزے لے کر کھا لئے۔۔۔۔۔۔۔میں خدا کے احسان سے بخیریت تمام ہوں اور کوئی گھبراہٹ نہیں ہے۔میں گوتم بدھ کو بھی خدا کا مامور مانتا ہوں۔اُس نے راج پاٹ اولاد بیوی سب چھوڑ چھاڑ کر محض عبادت ہی عین مقصود بالذات کر لیا تھا۔اللہ تعالیٰ رحم کرے اور اس عرصہ امتحان کو کم سے کم کر دے مگر میرے لعل ! اگر یہ عرصہ اُس کی منشاء سے لمبے سے لمبا بھی ہو جائے تو آپ کے ابا کے پاؤں انشاء اللہ لغزش نہ کھائیں گے۔اب وہ آپ سے ملا دے اور حضور کا دیدار کرا دے اُس کی مہربانی ہے۔ورنہ حالات تو بد سے بدتر ہی خیال کئے جاسکتے ہیں۔13-2-1955 تمہاری امی نے میرا وہ ساتھ دیا۔وہ احسان کئے۔وہ وفا کی وہ دلجوئی کی ایسی غمگساری دکھائی کہ میں ساری عمران کے سامنے شرمندہ رہا اور احسان مند رہا اور اب بھی تازیست دعا گو ہی رہوں گا میرا گھر ان کی آمد سے برکتوں سے بھر گیا میری ساری اُمیدیں ان کی دعاؤں سے پوری ہو ئیں میرے غم میں دل سے شریک ہو کر بے مثال غمگساری کرتیں میں ان کی یاد میں آنسو ہی نہیں خون کے آنسو بہاتا ہوں۔عید، بقرعید پر ہماری اور اپنی محبوب ترین ہستی کی یادشدید ہو جاتی۔امی جان کا اس قدر احترام اور پیار سے ذکر قابل تحسین و رشک ہے:۔8-9-1963 یہ خط میں بیت مبارک کے شمالی حصہ میں چار چادروں میں گھرا ہوا خدا کی گود سے تحریر کر رہا ہوں اعتکاف کا پہلا دن ہے اور دعا کی یہ حالت ہے کہ سرخالی 214