زندہ درخت — Page 201
زنده درخت مکرم عبدالحمید صاحب ایک ساتھی درویش کی وفات کا ذکر : 11-10-1976 مکرم عبدالحمید صاحب درویش فوت ہو گئے۔ان کے گھر والوں کو بتا دیں کہ وہ بڑے خوش نصیب تھے اس لحاظ سے بھی کہ اُن کے بیٹوں نے لاش لندن سے قادیان لا کر سپر د خاک کی ہم نے جنازہ پڑھا۔آخری بار شکل دیکھی ان کا مزار مستری عبد الغفور صاحب درویش والے قطعہ میں اُن کی قبر سے جنوب میں تیسری شمال میں مستری مذکور اور درمیان میں ابھی کتبہ نہیں لگا اس سے آگے جنوب میں ان کی آرام گاہ بالکل سیدھ میں ہے۔یہ ہمارے ساتھی تھے ہم گھر کے افراد کی طرح رہتے تھے۔اگر چہ یہ درویش کی ایک الگ دنیا ہے اور وہ اپنی دنیا میں دین دنیا کی راحت محسوس کرتا ہے اور قادیان کے سوا اس کی جان کو چین آتا ہی نہیں اور یہ نقد انعام ہے کہ خدا دل میں محبت ڈالتا ہے۔“ مولوی محمد شریف (بہنوئی) کے حج کا ذکر : عزیزہ صادقہ یہ حالات بظاہر مشکل نظر آتے ہیں مگر دراصل مشکل نہیں ہیں شریف کو اللہ تعالیٰ نے اس سعادت کے لئے چن لیا وہ انشاء اللہ حج کا راستہ کھولنے والا بنے گا۔خدا کے خاص راستے میں قید ہے اس قید پر ہزار آزادی قربان آپ کو مبارک ہو۔آپ کی قسمت میں تاریخ احمدیت میں نشان بننا لکھا ہے۔دیکھنا اس میں کس کس طرح برکتیں ہوں گی میرے خیال میں حج صرف ان دو کا قبول ہوا جنہوں نے قید و بند اور ہتھکڑی کی مشکل اُٹھائی سبحان اللہ اُس کی خاص دین ہے۔ع گرچہ بھا گئیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار 201