زندہ درخت — Page 18
زنده درخت ہرسیاں والے احمدی برادران نے مولوی فتح الدین صاحب کو دھرم کوٹ سے بلا لیا اور سیکھواں میں ہماری طرف بھی بلانے کے لئے آدمی آ گیا چونکہ حضور نے مناظرات وغیرہ بند کر دیے تھے۔اس لئے میں اور میرے بھائی امام الدین صاحب ہرسیاں روانہ ہو گئے۔اور اپنے بڑے بھائی جمال الدین صاحب مرحوم کو حضور کی خدمت مبارک میں روانہ کر دیا۔برائے حصولِ اجازت مناظرہ اور وہاں پر ہم جا کر مع احمدی دوستوں کے حضور کی اجازت کا انتظار کرنے لگے اُدھر فریق مخالف نے آسمان سر پر اُٹھایا ہوا تھا۔اور بہت سے پیغام بھیج رہے تھے۔کہ جلدی ہمارے ساتھ مناظرہ کر لیں۔لیکن ہم نے جواب دیا کہ جب تک قادیان سے اجازت نہ آئے ہم قطعاً مناظرہ نہیں کریں گے۔اس پر مخالفین نے خوشی کے ترانے گانے شروع کر دیئے اور وہاں کا نمبر دار اُن مخالفوں کی طرف سے آیا اور مجھے الگ لے جا کر کہنے لگا کہ اگر آپ میں طاقت نہیں ہے مباحثہ کی تو آپ مجھے کہہ دیں۔میں ان کو یہاں سے روانہ کر دیتا ہوں میں نے کہا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم میں مباحثہ کرنے کی طاقت ہے اور فریق مخالف ہماری طاقت کو جانتا ہے۔لیکن ہم اپنے پیشوا کے حکم کے تابع ہیں قادیان ہمارا آدمی حصول اجازت مباحثہ کے لئے گیا ہوا ہے۔ہم منتظر ہیں اگر اجازت آگئی تو مناظرہ کر لیں گے ورنہ نہیں پھر جو دل چاہے قیاس کر لینا تھوڑی دیر کے بعد میرے بھائی جمال الدین صاحب آگئے۔اور کہا کہ حضور نے اجازت نہیں دی۔جب مخالفین کو علم ہو گیا کہ مباحثہ نہیں ہو گا تب اُن میں طوفان بے تمیزی برپا ہوا اور جو کچھ اُن سے ہوسکتا تھا بکو اس کیا تمسخر اڑایا کہ کوئی حد نہ رہی۔چھوٹے چھوٹے بچے بھی خوشی کے شادیانے گاتے تھے اور ہم خاموش تھے فریق مخالف بظاہر فتح و کامیابی کی حالت میں اور ہم ناکامی اور شکست کی حالت میں ہرسیاں سے نکلے لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت کا عجیب نظارہ دیکھیں کہ جمعہ کے روز ہرسیاں سے ایک جماعت قادیان پہنچ گئی کہ ہم بیعت کرنے کے لئے آئے ہیں۔ہم حیران ہوئے اور ہم نے پوچھا بظاہر تو ہماری 18