زندہ درخت — Page 156
زنده درخت میں نے کہا حفاظت کے بجائے آپ تو لوٹ رہے میں کرفیو بھی لگا رکھا ہے تا کہ کوئی مدد کو نہ آسکے۔آپ پر کیسے بھروسہ ہو سکتا ہے۔باتوں کے دوران اس نے گھر کی خوب تلاشی لی حتیٰ کہ میری بیٹی کی گڑیوں کو پھاڑ کر دیکھا کہ اُن میں کچھ چھپایا ہوا تو نہیں پھر چھابے میں پڑے دس بارہ روپے کے کھلے پیسوں کو اٹھایا تیس روپے کپڑے میں بندھے تھے بے کار چیز سمجھ کر چھوڑ دیا۔اور مجھے زبردستی نیچے لے گئے اور باز پرس شروع کر دی کہ آپ نے شور کیوں کیا تھا۔میں نے وضاحت دی کہ میرے گھر کے نیچے باٹا کا اسٹور ہے۔جو میری دکانیں کرایہ پر لے کر بنایا گیا ہے مجھے دروازہ توڑنے کی آواز میں آئیں تو میں نے پوچھا کہ کون ہے؟ اوپر سے مجھے لے کر آنے والے سپاہیوں کے لوٹ کے مال سے بھاری جھولے کو دیکھ کر انہیں گمان ہوا کہ بہت مال لے آئے ہیں فوراً جیپیں اسٹارٹ کیں اور مجھے وہیں چھوڑ کر چلے گئے۔حملے کے انداز سے لگتا تھا کہ شاید اب زندہ واپس اوپر نہ آؤں۔انسانی جان تو ان کے سامنے مکھی سے بھی زیادہ حیثیت نہ رکھتی تھی۔بڑی بے دردی سے پیش آتے۔اُن کا ایک لفظ بہت ہی جان لیوا تھا۔اگر کسی کو کہتے کہ بنگلے چلو“ اس کا مطلب تھا وہ شخص زندہ واپس نہ آئے گا۔مجھے محترم مرزا عبد الحق اور دوسرے افسروں نے سمجھایا تھا کہ بنگلے جانے کو کہیں اور زور بھی دیں تو مت جانا۔مجھے تین دفعہ زبر دستی بنگلے لے جانے کی کوشش کی گئی۔ت ادیان پر منظم حملہ اور خدا تعالیٰ کی مدد: قادیان پر حملے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔مسلح حملہ آوروں کو عید گاہ شمشان بھومی میں رات ہی چھپا دیا گیا تھا صبح ہوتے ہی ایک گروہ نے دارالصحت کی طرف سے اور دوسرے گروہ نے دار الفتوح کی طرف سے اور کچھ حملہ آور کھارے اور ٹھیکری والے کی طرف سے بھی آئے۔حملہ بہت اچانک کیا گیا تھا۔کھلے عام قتل و غارت ،لوٹ مار دہشت گردی ہوئی شہر کے لوگ احمد یہ چوک اور باہر کے اسکول کالج وغیرہ میں جمع ہو گئے۔حملہ آوروں نے جو چاہا جس طرح چاہا لوٹ لیا۔سوٹی لاٹھی تک چھین کر لے گئے۔سائیکل 156