زندہ درخت — Page 151
زنده درخت سارا راستہ بے قراری سے درود شریف اور دعائیں پڑھتا ہوا گھر داخل ہوا تو اللہ کی رحمت پر شار ہو گیا۔بیمار اور تیمارداروں کی حالت بہت بہتر تھی۔صبح ڈاکٹر صاحب کو بتایا تو کہا یہ درویش کا معجزہ ہے ورنہ جو حالت تھی وہ نہ میرے بس کی تھی نہ آپ کے۔اب یہ بھی بتا دوں کہ اگلے دن روپے کا انتظام کیسے ہو گیا۔باسط کے ایک ساتھی طالب علم آئے اور میرے بیٹے سے کہا میرے پاس دس روپے میں اپنے پاس رکھ لیں میں بعد میں لے لوں گا۔اس طرح خدا تعالیٰ نے بچے کو شفا عطا فرمائی اور عزت نفس بھی مجروح نہ ہوئی۔یہ واقعہ میں نے مختصر کر کے لکھا ہے۔اُس وقت جو حالت ہوئی تھی بیان سے باہر ہے۔کس زباں سے میں کروں شکر کہاں ہے وہ زباں کہ میں ناچیز ہوں اور رحم فراواں تیرا ۱۷- شامت اعمال : میں 1962ء میں ربوہ سے ہو کر آیا۔تو اتفاق یوں ہوا کہ بھارت کے وزیر صحت طیب علی صاحب کو ہمارے ناظر صاحب بیت المال ( مکرم عبدالحمید عاجز صاحب) نے قادیان آنے کی دعوت دی ہوئی تھی۔میں اُس روز ایک شدید سخت اور تھکا دینے والے کام سے فارغ ہو کر گھر آیا ہی تھا کہ علم ہوا کہ آج کسی بڑے مہمان کی آمد آمد ہے خوب تیاریاں ہو رہی ہیں میں بھی اپنی تھکن کو پس پشت ڈال کر منتظم جلسہ سے ملا۔انہوں نے میری سامان وغیرہ لانے پر ڈیوٹی لگا دی۔یہ جلسہ مکرم چوہدری خدا بخش صاحب مرحوم کے مکان کے ساتھ ڈی بی اسکول قادیان کے ملحقہ میدان میں تھا۔مہمان کا استقبال مہمان خانہ کے صحن میں تھا۔لوگ قطار میں باندھے دورویہ کھڑے تھے۔میں بھی قطار میں کھڑا ہو گیا۔کسی نے کہا نعرہ کون لگائے گا ( میں نے جب سے ہوش سنبھالا تھا نعرے لگانے پر مقرر ہونے لگا تھا جوش سے مناسب وقت پر نعرے لگانے کے لئے مشہور تھا۔جماعتی اطلاعات کے سائن بورڈ لکھنا اور نعرہ لگانا گویا میری ملکیت تھے ) مکرم امیر صاحب نے میری طرف دیکھ کر کہا 151