زندہ درخت

by Other Authors

Page 138 of 368

زندہ درخت — Page 138

زنده درخت واٹر پینے کی خواہش ظاہر کی میں نے برف ڈال کر پیش کیا۔اُن کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ محترم سید ولی اللہ شاہ صاحب سے کسی کام کے سلسلے میں ملنے آئے تھے مگر تاخیر ہو جانے کی وجہ سے اُس وقت جا کر ملنا نا مناسب خیال کر رہے تھے۔میں نے سوچا کارِ خیر کا موقع مل سکتا ہے۔میں نے اندر جا کر اپنی اہلیہ سے پوچھا دو تین مہمان ہیں کچھ کھانے کو مل سکتا ہے بتایا کہ سالن روٹی ہے آپ دو تین منٹ مہمانوں سے باتیں کریں میں سویاں پکا لیتی ہوں آپ ان کو شوق سے دعوت دے دیں۔اور رات ٹھہرانے کا بھی انتظام کر دیتی ہوں۔میں نے ان اجنبی مہمانوں کو طعام و قیام کی دعوت دی۔وہ وجیہہ اور صاحب فہم و فر است معلوم ہوتے تھے۔دعوت قبول کی جتنی دیر کھانا کھانے میں لگی اہلیہ نے صاف ستھرے بستر جائے نماز وغیرہ سب رکھ دیے صبح ناشتہ کرا کے رخصت کیا۔میں نے پوچھا نہیں کہ کون ہیں۔محترم شاہ صاحب سے مل کر واپسی پر آئے اپنا ایڈریس دیا اور شناخت کروائی۔لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے۔اللہ تعالیٰ نے اکرام ضیف کا موقع دیا۔الحمدللہ ii- دار الشیوخ کے بچوں کی پکنک : حضرت میر محمد اسحق صاحب نے مدرسہ احمدیہ کے غریب طلباء اور جماعت کے بے سہارا بوڑھوں کے لئے ایک ادارہ قائم کیا تھا جن کو لنگر خانہ سے کھانا مہیا کیا جاتا تھا۔اس کو دار الشیوخ کہا جاتا تھا۔ایک مرتبہ دل میں یہ خیال آیا کہ سکولوں میں چھٹیوں کے دنوں میں سب بچے خوشی خوشی اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں مناتے ہیں مگر دار الشیوخ کے بچے دل مسوس کر رہ جاتے ہوں گے۔میرا دل درد سے بھر گیا۔میں نے فطری طور پر ان کا کرب محسوس کیا اور میں نے سوچا ان کی خوشی کا بھی سامان کرنا چاہیے۔چنانچہ ان کے نگران حکیم محمد الدین صاحب سے مشورہ کیا اُنہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور ان بچوں سے باپ کی طرح پیار کرنے والے حضرت میر محمد اسحق صاحب کی اجازت سے پروگرام بنایا وہاں تیس پینتیس بچے تھے۔اُن 138