زندہ درخت — Page 130
زنده درخت فوج کا میں خود آپ کے سامنے کھڑا ہوں آپ نے خود بیان کیا ہے کہ آپ مجھ سے جھوٹ بول کر جان بچا رہے تھے اور بادشاہ کیا ہوتا ہے۔مرزا صاحب کو تو شاہ کو نین نے سلام فرمایا ہے۔کہ جب آئے تو میرا اسلام دینا۔ہم آپ علیہ السلام کی دل سے اطاعت کرتے ہیں۔اور اپنا دینی و دنیاوی بادشاہ مانتے ہیں۔اُس پر کافی اثر ہوا۔xvi- کشمیر میں حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر پر : جب میں پہلی دفعہ کشمیر گیا تو سستے زمانے تھے تھی آٹھ آنے سیر مل جاتا تھا۔انڈے ایک آنے کے چار اور مرغی ڈھائی آنے میں مل جاتی تھی۔سیب ایک آنے سیر۔اچھے چاول ایک آنے کے ڈیڑھ پاؤ چینی بارہ چودہ آنے سیر۔سواری کے لئے گھوڑا آٹھ آنے روز اور سامان اُٹھانے کے لئے مزدور اس سے بھی سستا مل جاتا تھا۔ٹانگے کی نسبت کشتی میں سفر ستا تھا۔کھانے کے لئے آلو کی بیسن لگی روٹی اور چھوٹی چھوٹی مچھلی مل جاتی۔ناشپاتی بہت لذیز ہوتی اور وہ بھی ایک آنے سیر کبھی ایک روپے کی سومل جاتیں۔ایک جگہ بھاؤ پوچھا تو جواب ملا آپ درخت سے جتنی ضرورت ہے اُتار لیں۔عناب قیمتی ہوتے ہیں مگر وہاں خود رو بیریوں کی طرح وافر اُگے ہوئے تھے۔سبزیاں تر و تازہ خوش رنگ خوش ذائقہ حسن و تازگی کی مثال ہوتی تھیں۔مگر وہاں پستو اور کھٹمل بہت تھے میں نے تکیے کے غلاف کی طرح ایک بڑا تھیلاسی لیا اُس کو اپنے اوپر چڑھا کر خوب کس کے منہ باندھ لیتا۔کچھ بچ بچاؤ ہو جاتا لیکن اگر لباس میں گھس جاتے تو بہت بے چینی ہوتی۔کشمیر میں حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر دیکھنے گیا تو مجاور سے پوچھا یہاں ایک نبی کی قبر ہے آپ بتا سکتے ہیں کہاں ہے؟ اُس نے میری طرف انگلی کر کے باقی لوگوں کو مخاطب کر کے کہا یہ پکا مرز کی ہے۔ہم اُس مسجد میں گئے جس کے ساتھ مزار ہے۔متولی نے بتایا کہ اس قبر پر سنگ مرمر کا کتبہ تھا جس کو کوئی مرزائی یا عیسائی لے گیا ہے۔کیونکہ اُن دونوں کا اُس سے مطلب حل ہوتا ہے۔عیسائی کہتے ہیں خدا تھے اگر کتبہ موجودرہتا تو خدائی اور عیسائیت 130