زندہ درخت — Page 102
زنده درخت تانگہ والامل گیا۔خیریت سے گھر آیا اور صبح ہوتے ہی مکیریاں اپنے وقف کے لئے روانہ ہو گیا۔چار دن کے بعد خط ملا کے بچہ آپ کے گھر سے جانے کے بعد ٹھیک ہونا شروع ہو گیا تھا۔اب بالکل ٹھیک ہے۔اُس حکیم مطلق نے میری اہلیہ کے توکل کی لاج رکھ لی۔اللہ تعالیٰ کے پیار کے ایسے پیارے سلوک سے میری زندگی بھری پڑی ہے۔الحمد للہ۔-19 کام کا آغاز اور حضرت مصلح موعود کی دعا سے برکت - 1917ء یا 1918ء میں محلہ دارالفضل میں دکان کھولی مگر زیادہ کامیابی کی امید نہ تھی اس لئے پھر قادیان کے عین مرکز میں حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحب کے مکان میں، احمد یہ چوک کے جنوبی طرف بازار میں ، سامنے والی دکان کرایہ پر لے کر کام شروع کیا۔ہر کام سیکھنے اور آگے بڑھنے کا بہت شوق تھا۔مٹھائی بنانے کا کام سیکھا۔گرمیوں میں سوڈا واٹر اور سردیوں میں مٹھائی فروخت کرتا۔پھر آئس کریم بنانے کا خیال آیا ایک بڑی مشین خرید لی۔آئس کریم بنانے کا خیال آنے کی وجہ یہ تھی کہ ایک دن نماز ظہر کے بعد حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نے فرمایا کہ ملائی برف بیچنے والے زور زور سے آواز میں لگاتے ہیں جس سے نماز میں خلل ہوتا ہے۔پھر حضور نے ملائی برف خریدنے سے منع فرمایا تا کہ بیچنے والے اُدھر کا رُخ کرنا چھوڑ دیں میں نے دل میں ارادہ کیا کہ میں یہ کام کروں گا اور نماز کے وقت کا خیال رکھوں گا۔لاہور سے آئس کریم بنانے والی مشین خرید لایا اور دارالفضل میں تعلیم الاسلام ہائی اسکول اور بیت نور کے سامنے دکان لی۔دکان کا افتتاح اس طرح کیا کہ حضور کی دعوت کی خوب اچھی لذیذ آئس کریم بنا کر پیش کی حضور نے فرمایا: پنجاب میں سب سے پہلے اس کام کو کرنے والے احمدی۔۔۔آپ ہیں“ آپ نے کام میں برکت کے لئے دعا بھی کروائی۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس 102