ذکر حبیب

by Other Authors

Page 74 of 381

ذکر حبیب — Page 74

74 ویب نے مجھے یہ بھی لکھا ہے کہ آپ بہت سے ممالک کی سیاحت کر چکے ہیں اور بہت سے مذاہب کی کتب مطالعہ کر چکے ہیں۔بعض مسلمانوں سے آپ کی ملاقات ہوئی اور بعض کے ساتھ دوستی کا تعلق پیدا ہوا اور کہ آپ ہمیشہ عیسائیت سے متنفر اور اسلام کے قریب ہوتے گئے یہاں تک کہ آپ اسلام کے دروازے میں داخل ہو گئے اور دُنیا کے سامنے اعلان کر دیا کہ سوائے ایک اللہ کے کوئی قابل پرستش نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور صرف اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے۔یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ خدائے رحمان و رحیم کا فضل آپ کے شامل حال ہے۔آپ کے ملک میں جو کروڑوں انسان ہیں انمیں سے خدا تعالیٰ نے آپ کو چن لیا ہے تا کہ حق کی روشنی کو آپ پائیں اور اس ملک میں پھیلائیں۔مجھے یہ سن کر افسوس ہوا کہ اہل امریکہ نہ صرف اسلامی حقیقت سے بے خبر ہیں بلکہ اسلام کے متعلق مفتریا نہ جھوٹی باتیں ان کو بتلائی گئی ہیں۔بعض اور دوستوں سے بھی مجھے یہ حالات معلوم ہوئے تھے اور اب آپ سے اُن کی باتوں کی تصدیق ہوئی ہے لیکن بڑا افسوس تو یہ ہے کہ خوداسلامی ممالک کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں ہے۔اللہ کے مقدس انسان حضرت محمد صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک ایام کو تیرہ سو سال گذر گئے اور لوگوں نے حق کو اس کی سچی اور اصلی حالت میں رکھنا چھوڑ دیا اور مقدس مسائل فیج اعوج میں سے گذرتے ہوئے خاک آلودہ اور خستہ ہو کر اپنے صحیح مفہوم سے الگ ہو گئے۔اب اسلام لوگوں میں برائے نام رہ گیا ہے۔وہ قرآن شریف پڑھتے ہیں مگر اس کا کلام ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا۔پس اندرونی مشکلات بھی ہیں اور بیرونی بھی ہیں۔مگر خدائے کریم جس نے قرآن شریف کو حکمت اور شریعت کے ساتھ نازل کیا اُسی نے سنت قدیمہ کے مطابق اس زمانہ میں بھی ایک مجدد حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب کے وجود میں بھیجا ہے جو مرسل من اللہ اور اس زمانہ کے مجد داعظم ہیں جن کی تبلیغ پر مشتمل ایک مختصر سا رسالہ میں آپ کو روانہ کرتا ہوں۔یہ رسالہ دراصل ایک میگزین کا پر اس پیکٹس ہے اور اگر آپ ملک امریکہ میں اس رسالہ کا ایجنٹ بننا منظور فرماویں تو اس کا منیجر بخوشی آپ کو کمیشن دے گا۔آپ فرماتے ہیں کہ آپ کو ایک مرشد کی ضرورت ہے جو آپ کو کامل مسلمان بناوے۔سو میں آپ کو اطلاع کرتا ہوں کہ ایسا مرشد وہ اللہ کا رسول ہی ہے جو قوت کشش لے کر آیا ہے تا کہ انسانوں کو خدا سے ملا دے اور راقم اس کے ادنے غلاموں میں سے ایک ہے۔میں نے حضرت اقدس سے آپ کا ذکر کیا ہے اور انہیں آپ کے قبولِ اسلام کی خبر سے خوشی حاصل ہوئی ہے۔میں نے اوپر اندرونی اور بیرونی غلط فہمیوں کا تذکرہ کیا ہے۔مگر بیرونی غلط فہمیاں اس واسطے زیادہ تر قابل افسوس ہیں کہ غیر ممالک کے لوگ عربی زبان سے ناواقف ہونے کے سبب خود تو قرآن شریف اور حدیث کا ترجمہ