ذکر حبیب — Page 60
60 کو وہ ہماری خود پسندی خیال کرتے ہیں اور قابلِ اعتراض ٹھیراتے ہیں تو پہلے سورج اور چاند پر بھی وہی اعتراض کرنا چاہئیے۔خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے کہ روشنی زمین پر ان کے ذریعہ پہنچائی جائے تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو خود نمائی کرتے ہیں اور اپنا فخر دکھاتے ہیں کہ ہم میں یہ روشنی ہے۔اس لئے آؤ کوٹھڑی کے دروازے بند کر کے اندر بیٹھ جائیں تا خدا تعالیٰ روشنی ہمیں سید ھے طور پر پہنچائے ، نہ ایسی اشیاء کی وساطت سے جو خود اپنی بڑائی کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔یہ کس قد رحماقت ہے کہ جن ذریعوں سے خدا تعالیٰ نے روشنی کو پہنچانا پسند کیا ہے ان کو داخل شرک خیال کیا جائے۔اسی طرح سے خدا تعالے کی سنت یہی ہے کہ جب وہ اپنی خلقت کو بلانا چاہتا ہے تو اپنے ہی ایک بندے کے ذریعہ سے کرتا ہے اور پھر جو کچھ وہ بندہ کرتا ہے اس میں ہو کر کرتا ہے اور اس کا ہر فعل خدا تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے وَمَا يَنْطِقُ عِنْ الْهَوَى إِنْ هُوَ الَّا وَحْيٌ يُوحَى وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمی۔برہموں نے بھی یہ اعتراض کیا ہے کہ لا الہ الا اللہ تو ہوا مگر یہ ساتھ محمد رسول اللہ کیا لگا دیا ہے۔فرمایا ہم خود کیا ہیں ہم زمین پر حجتہ اللہ ہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے مجسم نشان ہیں۔مگر کس کام کے لئے صرف اسلام کے لئے اور پیغمبر اسلام کی خدمت کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے نیچے دین کی تائید کے لئے۔ہماری سب کا رروائیاں اسلام کی خاطر ہیں نہ اپنی ذات کے لئے۔پھر فرمایا کہ اس کے علاوہ ان لوگوں کو یہ بھی دیکھنا چاہئیے کہ ہم دن رات جو دوسرے ادیان کی بطلان کی فکر میں ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے۔کیا ہم نصیبین یا کشمیر آدمی اسی لئے بھیجتے ہیں کہ ہماری بڑائی ہو، یا دینِ اسلام کی حقانیت روشن ہو۔مقد مہ گوڑگانواں ۱۸۹۹ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسّلام نے عیسائیوں کو چیلنج کرتے ہوئے ایک ہزار روپیہ انعام کا ایک اشتہار دیا تھا۔اس کے مقابل میں کوئی عیسائی تو نہ آیا لیکن ایک مسلمان نے جس کا نام اصغر حسین تھا گوڑ گانواں میں لالہ جوتی پر شاد مجسٹریٹ کی عدالت میں نالش کی کہ میں مرزا صاحب کے اس چیلنج کو قبول کرتا ہوں کیونکہ میں بھی حضرت عیسی کو مانتا ہوں ، اس واسطے میں بھی عیسائی ہی ہوں اور مجھے مرزا غلام احمد قادیانی سے ان کا مشتہرہ ایک ہزار روپیہ دلایا جائے۔اس مقدمہ کا سمن جب قادیان پہنچا تو یہاں سے مرزا افضل بیگ صاحب مرحوم مختار اور مولوی محمد علی صاحب کو اس مقدمہ کی پیروی کے واسطے بھیجا گیا اور غالبا حکیم فضل دین صاحب مرحوم بھی ان کے