ذکر حبیب

by Other Authors

Page 39 of 381

ذکر حبیب — Page 39

39 اُن لوگوں کے لئے دُعا کی توجہ نہیں ہو سکتی۔اس پر وہ بہت بگڑا اور لاہور واپس جا کر ہمارے مخالفوں کے ساتھ مل کر مخالفت میں اشتہار شائع کیا۔جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ تمام حالات شائع کر دئیے جو اس کے ساتھ دُعا کی درخواست کے وقت پیش آئے تھے۔عام مسلمانوں میں اس وجہ سے بہت ناراضگی پھیلی اور اخبار چودھویں صدی میں ایک معزز مسلمان نے حضرت مسیح موعود کے حق میں گستاخی کی جس پر اس معزز شخص کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا ملنے کی پیشگوئی شائع کی گئی۔مگر چند ماہ کے بعد اس نے توبہ کی اور بیعت کی جس سے وہ عذاب اس پر سے ٹل گیا۔اس کے بعد ٹر کی سے خبر آئی کہ وہی حسین کا می سفیر جو ہندوستان کے مسلمانوں سے حجاز ریلوے کے واسطے روپیہ لے گیا تھا خیانت کے جرم میں گرفتار ہو کر قید ہو گیا۔اس طرح یہ واقعہ کئی ایک نشانوں کے ظاہر ہونے کا موجب ہوا۔اخبار چودھویں صدی کے واسطے مضمون اسی حسین کامی اور چودھویں صدی کے بزرگ کے سلسلہ میں میں نے چودھویں صدی کے ایڈیٹر کو جو میرے ہموطن اور واقف تھے ، ایک دفعہ ایک لمبا مضمون لکھا کہ اخبار میں شائع کر دے اور اس کو سمجھایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت میں اپنی عاقبت کو خراب نہ کرے۔میں نے اس مضمون کی نقل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھیجی۔حضور نے اس کو بہت پسند فرمایا مگر فرمایا کہ یہ لوگ متعصب ہیں ایسے مضمون کو شائع نہیں کریں گے اس واسطے صبر کرنا چاہئیے۔چودھویں صدی والے نے وہ مضمون تو شائع نہ کیا مگر اس کا ذکر کر دیا کہ ایسا ایک مضمون بھیجا ہے اور مجھے کچھ گالیاں سُنا دیں۔اُس وقت ہمارا اپنا کوئی اخبار نہ تھا جو ہمارے مضامین شائع کر دے۔حضرت صاحب مجھے پہچانتے ہیں ابتدائی ایام میں جب کہ احباب کی تعداد بہت کم تھی مخلصین میں سے ہر ایک کو یہ خواہش رہتی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس کو اچھی طرح سے پہچانتے ہوں اور اس کے نام سے آگاہ ہوں۔ان دنوں کا ذکر ہے کہ حضور کے ایک خادم حافظ حامد علی صاحب نے آن کر عرض کی کہ مجھے آٹا پسوانے کے واسطے کسی آدمی کو ساتھ لے جانا ضروری ہے، کس کو لے جاؤں۔مولوی شیر علی صاحب اتفاق سے قریب کھڑے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مولوی صاحب کا بازو پکڑ کر حافظ حامد علی صاحب کو کہا ” میاں شیر علی کو لے جاؤ۔“ اس پر مولوی شیر علی صاحب بہت خوش ہوئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے پہچانتے ہیں اور میرے نام سے بھی واقف ہیں۔ان دنوں قادیان -