ذکر حبیب

by Other Authors

Page 30 of 381

ذکر حبیب — Page 30

30 کے اُس حصہ میں جو پُرانے پل کے جنوبی جانب ہے اور جہاں اب قاری محمد یسین صاحب اور مولوی قطب الدین صاحب اور میاں احمد نور افغان وغیرہ کے مکانات ہیں یہاں ایک مکان بنانا چاہا۔لیکن اس تجویز شدہ مکان کا جو نقشہ اُنہوں نے بنایا اور بتیاں لگا ئیں تو معلوم ہوا کہ نواب صاحب نے کچھ حصہ اس زمین کا بھی اپنے نقشہ میں شامل کر لیا تھا جو اُس کھیت کے غربی جانب تھا جس کھیت کو بہت سی بھرتی ڈلوا کر حضرت اُم المومنین نے تیار کر وایا تھا۔(اُس وقت نواب صاحب کی بیگم جو وہ مالیر کوٹلہ سے ساتھ لائے تھے ، زندہ تھیں) یہ بات حضرت اُم المومنین کی ناراضگی کا موجب ہوئی اور حضرت اُم المومنین نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے اِس ناراضگی کا اظہار کیا۔حضور نے نواب صاحب کو لکھا۔جس پر نواب صاحب نے اُس زمین پر مکان بنانے کے ارادہ کو ترک کیا کہ اس میں ابتداء ہی میں تنازع ہوا ہے یہ جگہ مبارک نہیں ہو سکتی اور بعد میں دوسرے اصحاب نے بھرتی ڈلوا کر وہاں مکانات بنوا لئے اور نواب صاحب نے مدرسہ تعلیم الاسلام کے پاس زمین خرید کر کے کوٹھی بنوائی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تعلقات محبت کے بڑہانے میں اُنہیں بڑی برکات حاصل ہوئیں۔بال سفید فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے بال تمیں سال کی عمر میں سفید ہونے شروع ہوئے تھے اور پھر جلد جلد سب سفید ہو گئے۔اُنہوں تُجھ دیدا ہے۔حضرت مسیح موعود کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی۔ایک دفعہ اُس نے کیا حرکت کی کہ جس کمرے میں حضرت صاحب بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے وہاں ایک کونے میں گھرا تھا جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھتے تھے۔وہاں اپنے کپڑے اُتار کر ینگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی۔حضرت صاحب اپنے کام تحریر میں مصروف رہے اور کچھ خیال نہ کیا کہ وہ کیا کرتی ہے۔جب وہ نہا چکی تو ایک اور خادمہ اتفاقاً آ نکلی۔اُس نے اس نیم دیوانی کو ملامت کی کہ حضرت صاحب کے کمرے میں اور موجودگی کے وقت تو نے یہ کیا حرکت کی تو اُس نے ہنس کر جواب دیا ، اُنہوں کچھ دیدا ہے۔یعنی اُسے کیا دکھائی دیتا ہے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی عادت غض بصر کی جو وہ ہر وقت مشاہدہ کرتی تھی اس کا اثر اُس دیوانی عورت پر بھی ایسا تھا کہ وہ خیال کرتی تھی کہ حضور کو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔اس واسطے حضور سے کسی پر وہ کی ضرورت ہی نہیں۔