ذکر حبیب — Page 329
329 حضور اس کے خیالات میں حضور کی ملاقات کے بعد عظیم الشان انقلاب پیدا ہو گیا ہے۔چنانچہ : پہلے وہ ہمیشہ اپنے لیکچروں میں اجرام سماوی وغیرہ کی تصاویر دکھاتا اور کبھی مسیح کی مصلوب تصویر پیش کیا کرتا تھا تو یہ کہا کرتا تھا کہ یہ مسیح کی تصویر ہے۔جس نے دنیا پر رحم کر کے تمام دُنیا کے گناہوں کے بدلے میں ایک اپنی اکلوتی جان خدا کے حضور پیش کی اور تمام دنیا کے گناہوں کا کفارہ ہو کر دنیا پر اپنی کامل محبت اور رحم کا ثبوت دیا مگر اب جبکہ اس نے حضور سے ملاقات کی اور لیکچر دیا تو مسیح کی مصلوب تصویر دکھاتے ہوئے صرف یہ الفاظ کہے کہ یہ تصویر صرف عیسائیوں کے واسطے موجب خوشی ہو سکتی ہے۔سچی تعریف اور ستائیش کے لائق وہی سب سے بڑا خدا ہے۔اپنے لیکچر میں بیان کیا کرتا تھا کہ نسل انسانی آہستہ آہستہ ترقی کر کے اد نے حالت سے بندر اور پھر بندر سے ترقی پاکر انسان بنا۔مگر اس دفعہ کے لیکچر میں اس نے صاف انکار کیا کہ یہ ڈارون کا قول ہے۔اگر چہ اس قابل نہیں کہ اس سے اتفاق کیا جاوے۔بلکہ انسان اپنی حالت میں خود ہی ترقی کرتا ہے غرضیکہ اس پر بہت بڑا اثر ہوا ہے۔اور وہ حضور کی ملاقات کے بعد ایک نئے خیالات کا انسان بن گیا ہے اور ان خیالات کو جرات سے بیان کرتا ہے۔“ ایک انگریز کا حضرت مسیح موعود کے ساتھ مکالمہ پروفیسر کلیمنٹ ریگ ایک مشہور سیاح، ہیئت دان اور لیکچرار ہے۔۔۔اس کا اصلی وطن انگلستان میں ہے۔آسٹریلیا میں بہت مدت تک وہ گورنمنٹ کا ملازم افسر صیغہ علم ہیئت رہا۔سائنس کے ساتھ پروفیسر مذکور کو خاص دلچسپی ہے اور چند کتابیں تصنیف کی ہیں جبکہ حضرت لاہور تشریف لائے۔تو پر و فیسر اس وقت یہیں تھا۔اور اُس نے علم ہیئت پر ایک لیکچر ریلوے اسٹیشن کے قریب دیا تھا اور ساتھ ایک لینٹرن کی روشنی سے اجرام فلکی کی تصویر میں دکھائی تھیں۔یہ لیکچر میں نے بھی سُنا تھا۔دوران لیکچر میں پروفیسر کی گفتگو سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ شخص اندھا دھند عیسائیت کی پیروی کرنے والا نہیں۔بلکہ غیر متعصب اور انصاف پسند ہے۔اس واسطے میں اُسے ملا۔اور میں نے اُسے کہا۔پر وفیسر تم دنیا میں گھومے۔کیا تم نے کبھی کوئی خدا کا نبی بھی دیکھا۔اور حضرت اقدس کے دعوی مسیحیت و مہدویت اور اس کے دلائل سے اس کو خبر کی۔ان باتوں کوسُن کر وہ بہت خوش ہوا اور کہا کہ میں ساری دنیا کے گردگھوما ہوں۔مگر خدا کا نبی کوئی نہیں دیکھا۔اور میں تو ایسے ہی آدمی کی تلاش میں ہوں۔اور حضرت کی ملاقات کا از حد شوق ظاہر کیا۔میں نے (مفتی محمد صادق نے ) مکان پر آ کر حضرت صاحب سے اس کا ذکر کیا۔حضرت صاحب ہنسے اور فرمایا کہ مفتی صاحب تو انگریزوں کو ہی شکار