ذکر حبیب

by Other Authors

Page 313 of 381

ذکر حبیب — Page 313

313 بڑا جوش تھا۔اور انہوں نے اپنے کام کے واسطے بنوں کو اپنا مرکز بنایا تھا۔۱۹۰۴ء میں جب کہ عاجز راقم قادیان تعلیم الاسلام ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر تھا۔ایک صبح پادری پینل صاحب بائیسکل پر سوار قادیان پہنچے۔ایک اور نو جوان بھی اُن کے ساتھ دوسرے بائیسکل پر سوار تھا۔جس کو وہ اپنا بیٹا کہتے تھے۔اور بظاہر وہ مسلمان تھا۔پادری صاحب نے گیروی رنگ کے کپڑے دیسی طرز کے پہنے ہوئے تھے۔سر پر پگڑی تھی۔پاؤں میں جزا ہیں نہ تھیں۔اور سرحدی طرز کی ایک چپلی پہنے ہوئے تھے۔میں ان کی شکل دیکھتے ہی پہچان گیا۔کہ یہ کوئی انگریز ہے۔جو دیسی لباس پہنے ہوئے ہے۔اور میں نے انگریزی میں اُس سے بات شروع کی۔لیکن انہوں نے جواب اردو میں دیا۔اور معلوم ہوا کہ انہوں نے ارادہ کیا ہے۔کہ چند ماہ پنجاب کے مختلف شہروں میں دورہ کر کے مسلمانوں کے صوفیاء اور فقراء سے ملاقاتیں کریں۔میں نے جلدی سے اُن کے ٹھہرانے کے لئے مدرسہ کے ایک کمرہ میں انتظام کر دیا۔لنگر خانہ سے کھانا منگوایا گیا جو انہوں نے بے تکلفی سے ہندوستانیوں کی طرح ہاتھ سے کھایا۔اور پھر حضرت مولوی نور الدین صاحب کے درس حدیث میں اور لوگوں کے درمیان چٹائی پر بیٹھ کر درس سنتے رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی طبیعت علیل ہونے کے سبب پادری صاحب کی ملاقات اُن سے نہ ہوسکی۔اُن کا پروگرام قادیان میں صرف ایک ہی دن ٹھہر نے کا تھا۔لیکن میں نے اُن کو نہایت مفصل احمدیت کی تبلیغ کی۔اس تقریر کا ایک حصہ اخبار الحکم جنوری ۱۹۰۴ء میں شائع ہوا تھا۔ڈاکٹر پینل نے اپنا ایک سفر نامہ بھی لکھا تھا۔جس میں قادیان کا بھی ذکر تھا۔بنوں کے مشہور مشنری ڈاکٹر پینل کے ذریعہ سے وہاں کے ایک مسلمان گل محمد نام عیسائی ہو گئے تھے۔یہ گل محمد صاحب ۱۹۰۲ء یا ۱۹۰۳ ء میں ایک دفعہ قادیان بھی آئے۔ان کا طرز گفتگو گستاخانہ اور بے باکا نہ تھا۔وہ چاہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مباحثہ کے رنگ میں کچھ لمبی گفتگو کریں۔مگر حضرت صاحب نے اس کی طرف متوجہ ہونا اور اس کو مُنہ لگانا پسند نہیں کیا۔اور اس کے ساتھ گفتگو کے وقت اس کو صرف گل محمد سے مخاطب کرتے تھے۔جس پر وہ ناراض ہوا اور کہا کہ سب مجھے مولوی گل محمد کہا کرتے ہیں۔آپ بھی مجھے ایسا ہی کہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا۔مولوی ایک عزت کا لفظ علماء اسلام کے واسطے مخصوص ہے۔میں آپ کو مولوی نہیں کہہ سکتا۔عاجز راقم اس کے ساتھ بہت دیر تک مذہبی گفتگو کرتا رہا۔اور حضرت مولوی نورالدین صاحب سے بھی اس کی گفتگو ہوئی۔جب وہ قادیان سے چلا گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک رویا میں