ذکر حبیب

by Other Authors

Page 266 of 381

ذکر حبیب — Page 266

266 خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مجموعہ کی کاپیاں لکھی جا رہی تھیں کہ مفتی صاحب امریکہ سے واپس تشریف لے آئے۔اور اپنی بعض تقریروں میں انہوں نے یہ باتیں بیان کیں۔خاکسار نے اس خیال سے کہ مفتی صاحب کا اِس کتاب میں حصہ ہو جاوے۔انہیں درج کر دیا ہے: نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ یوں تو حضرت صاحب اپنے سارے خدام سے ہی بہت محبت رکھتے تھے۔لیکن میں یہ محسوس کرتا تھا کہ آپ کو مفتی صاحب سے خاص محبت ہے۔جب کبھی آپ مفتی صاحب کا ذکر فرماتے۔تو فرماتے ” ہمارے مفتی صاحب“ اور جب مفتی صاحب لاہور سے قادیان آیا کرتے تھے۔تو حضرت صاحب ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے نزدیک محبت اور اس کے اظہار کے اقسام ہیں۔جنہیں نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض وقت لوگ غلط خیالات قائم کر لیتے ہیں۔انسان کی محبت اپنی بیوی سے اور رنگ کی ہوتی ہے۔اور والدین سے اور رنگ کی ، رشتہ داروں سے اور رنگ کی ہوتی ہے اور دوسروں سے اور رنگ کی۔رشتہ داروں میں سے عمر کے لحاظ سے چھوٹوں سے اور رنگ کی محبت ہوتی ہے۔اور بڑوں سے اور رنگ کی۔خادموں کے ساتھ اور رنگ کی ہوتی ہے۔اور دوسروں کے ساتھ اور رنگ کی۔دوستوں میں سے بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ محبت اور رنگ کی ہوتی ہے۔چھوٹوں کے ساتھ اور رنگ کی۔اپنے جذبات محبت پر قابورکھنے والوں کے ساتھ اور رنگ کی ہوتی ہے۔اور وہ جن کی بات بات سے محبت ٹیکے اور وہ اس جذ بہ کو قابو میں نہ رکھ سکیں اُن کے ساتھ اور نگ کی وغیرہ وغیرہ۔غرض محبت اور محبت کے اظہار کے بہت سے شعبے اور بہت سی صورتیں ہیں۔جن کے نظر انداز کرنے سے غلط نتائج پیدا ہو جاتے ہیں۔ان باتوں کو نہ سمجھنے والے لوگوں نے فضیلت صحابہ کے متعلق بھی بعض غلط خیال قائم کئے ہیں۔مثلاً حضرت ابوبکرؓ، حضرت علیؓ اور حضرت زید اور حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ کی مقابلہ فضیلت کے متعلق مسلمانوں میں بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے۔مگر خاکسار کے نزدیک اگر جہات اور نوعیت محبت کے اصول کو مد نظر رکھا جاوے۔اور اس علم کی روشنی میں آنحضرت صلعم کے اُس طریق اور ان اقوال پر غور کیا جاوے۔جن سے لوگ عموماً استدلال پکڑتے ہیں۔تو بات جلد فیصلہ ہو جاوے۔حضرت علی آنحضرت صلعم کے عزیز تھے۔اور بالکل آپ کے بچوں کی طرح آپ کے ساتھ رہتے تھے۔اس لئے ان کے متعلق آپ کا طریق اور آپ کے الفاظ اور قسم کی محبت کے حامل تھے۔مگر حضرت ابو بکر آپ کے ہم عمر اور غیر خاندان سے تھے۔اور سنجیدہ مزاج بزرگ آدمی تھے۔اِس لئے اُن کے ساتھ آپ کا طریق اور آپ