ذکر حبیب — Page 236
236 زیور پر زکوة ۲۶ اپریل۔ایک شخص نے عرض کیا کہ زیور پر زکوۃ ہے یا نہیں۔فرمایا ”جوز یور استعمال میں آتا ہے اور کوئی بیاہ شادی پر مانگ کر لے جاتا ہے۔تو دے دیا جاوے۔وہ زکوۃ سے مستثنیٰ۔غیر احمدی امام کا اقتداء ناجائز سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں ، تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں۔فرمایا ” پہلے تمہارا فرض ہے کہ اُسے واقف کرو۔پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ، ور نہ اُس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو۔اور اگر خاموش رہے ، نہ تصدیق کرے، اور نہ تکذیب۔تو وہ بھی منافق ہے۔اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“ موجو دہ عیسائی دین دراصل پولوسی مذہب ہے ۲۷ / اپریل ۱۹۰۲ء۔فرمایا ” جیسا کہ یہودی فاضل نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔یہ بات صحیح ہے کہ موجودہ مذہب نصاری جس میں شریعت کا کوئی پاس نہیں۔اور سؤ رکھانا اور غیر مختون رہنا وغیرہ تمام باتیں شریعت موسوی کے مخالف ہیں۔یہ باتیں اصل میں پولوس کی ایجاد ہیں۔اور اس واسطے ہم اس مذہب کو عیسوی مذہب نہیں کہہ سکتے۔بلکہ دراصل یہ پولوی مذہب ہے۔اور ہم تعجب کرتے ہیں کہ حواریوں کو چھوڑ کر ، اور ان کی رائے کے بر خلاف کیوں ایسے شخص کی باتوں پر اعتماد کر لیا گیا۔کہ جس کی ساری عمر یسوع کی مخالفت میں گذری تھی۔مذہب عیسوی میں پولوس کا ایسا ہی حال ہے۔جیسا کہ باوا نا تک صاحب کی اصل باتوں کو چھوڑ کر قوم سکھ گورو گوبند سنگھ کی باتوں کو پکڑ بیٹھی ہے۔کوئی سند ایسی نہیں مل سکتی جس کے مطابق عمل کر کے پولوس جیسے آدمی کے خطوط انا جیل اربعہ کے ساتھ شامل کئے جاسکتے۔مگر پولوس خواہ مخواہ معتبر بن بیٹھا تھا۔ہم اسلام کی تاریخ میں کوئی ایسا آدمی نہیں پاتے جو خواہ مخواہ صحابی بن بیٹھا ہو۔“ دار کی حفاظت ۱/۲۸ پریل۔حضرت اقدس کو الہام ہوا۔اِنّی أَحَافِظ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔فرمایا۔دار کے معنے نہیں کھلے۔کہ اس سے مُراد صرف یہ گھر ہے۔یا قادیان میں جتنے ہمارے سلسلہ کے متعلق گھر ہیں۔مثلاً مدرسہ اور مولوی صاحب کا گھر وغیرہ۔بڑوں پر عذاب بعد میں آنا ۳۰ /۱ اپریل ۱۹۰۲ ء آج رات کو الہام ہوا۔لولا الامر لهلك النمر۔یعنی اگر