ذکر حبیب

by Other Authors

Page 219 of 381

ذکر حبیب — Page 219

219 حضرت بھی فرقہ وہابیہ کے طرفدار ہیں۔اور اپنے تئیں بار بارحنفی اور وہابیوں کا دشمن ظاہر کرتا تھا، اور کہتا تھا کہ حق کا طالب ہوں۔اس پر حضرت نے فرمایا اگر کوئی محبت اور آہستگی سے ہماری باتیں سنے۔تو ہم بڑی محبت کرنے والے ہیں۔اور قرآن اور حدیث کے مطابق ہم فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔اگر کوئی اس طرح فیصلہ کرنا چاہے کہ جو امر قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کے مطابق ہو۔اُسے قبول کر لے گا اور جو ان کے برخلاف ہو۔اُسے رد کر دے گا۔تو یہ امر عین سرور عین مدعا ہے۔اور عین آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ہمارا مذہب وہابیوں کے برخلاف ہے۔ہمارے نز دیک تقلید کو چھوڑ نا ایک اباحت ہے۔کیونکہ ہر ایک شخص مجتہد نہیں ہے۔ذرا سا علم ہونے سے کوئی متابعت کے لائق نہیں ہو جاتا۔کیا وہ اس لائق ہے کہ سارے متقی اور تزکیہ کرنے والوں کی تابعداری سے آزاد ہو جاوے۔قرآن شریف کے اسرار سوائے مطہر اور پاک لوگوں کے اور کسی پر نہیں کھولے جاتے۔ہمارے ہاں جو آتا ہے۔اُسے پہلے ایک حنیفیت کا رنگ چڑھانا پڑتا ہے۔میرے خیال میں یہ چاروں مذہب اللہ تعالیٰ کا فضل ہیں۔اور اسلام کے واسطے ایک چار دیوار۔اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حمایت کے واسطے ایسے اعلیٰ لوگ پیدا کئے۔جو نہایت متقی اور صاحب تزکیہ تھے۔آج کل کے لوگ جو بگڑتے ہیں۔اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اماموں کی متابعت چھوڑ دی گئی ہے۔خدا تعالیٰ کو دو قسم کے لوگ پیارے ہیں۔اول وہ جن کو اللہ تعالیٰ نے خود پاک کیا اور علم دیا۔دوم وہ جو ان کی تابعداری کرتے ہیں۔ہمارے نزدیک ان لوگوں کی تابعداری کرنے والے بہت اچھے ہیں۔کیونکہ ان کو تز کیہ نفس عطاء کیا گیا تھا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے قریب کے ہیں۔میں نے خود سُنا ہے کہ بعض لوگ امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے حق میں سخت کلامی کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔“ ایک الہام ازنوٹ بک مولوی شیر علی صاحب ) ۱۵ اگست ۱۹۰۱ء کی صبح کو الہام ہوا: وانی ارای بعض المصائب تنزل۔(۱۰) ڈائری حضرت امام آخر الزمان علیہ السلام ۲۶ / اگست ۱۹۰۱ء۔صبح بوقت سیر۔فرمایا اچھی زندگی وہ ہے۔جوعدہ ہو۔اگر چہ تھوڑی ہو۔