ذکر حبیب — Page 203
203 يبايعون الله۔الخ گناہ دُور کرنے کا ذریعہ فرمایا جذبات اور گناہ سے چُھوٹ جانے کے لئے اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا کرنا چاہئیے۔جب سب سے زیادہ خدا کی عظمت اور جبروت دل میں بیٹھ جاوے۔تو گناہ دُور ہو جاتے ہیں۔ایک ڈاکٹر کے خوف دلانے سے بسا اوقات لوگوں کے دل پر ایسا اثر ہوتا ہے۔کہ وہ مر جاتے ہیں۔تو پھر خوف الہی کا اثر کیونکر نہ ہو۔چاہئیے کہ اپنی عمر کا حساب کرتے رہیں۔ان دوستوں کو اور رشتہ داروں کو یاد کریں، جو انہیں میں سے نکل کر چلے گئے۔لوگوں کی صحت کے ایام یو نہی غفلت میں گزر جاتے ہیں۔ایسی کوشش کرنی چاہئیے۔کہ خوف الہی دل پر غالب رہے۔جب تک انسان طول امل کو چھوڑ کر اپنے پر موت وارد نہ کر لے۔تب تک اس سے غفلت دُور نہیں ہوتی۔یہاں تک کہ خدا اپنے فضل سے ٹورنازل کر دے۔جوئیدہ یا بندہ۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام بنام مسیح موعود فرمایا ” حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسیح آوے تو اُس کو میرا سلام کہنا۔اس حدیث کے مطلب میں غور کرنا چاہئیے۔اگر مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود تھے۔تو خود حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی ملاقات معراج میں کی تھی۔اور نیز حضرت جبریل ہر روز وہاں سے آتے تھے۔کیوں نہ اُن کے ذریعہ سے اپنا سلام پہنچایا۔اور پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بعد از وفات آسمان پر ہی گئے۔اور وہیں پر حضرت مسیح بھی تھے۔اور حضرت مسیح کو تو خود رسول کریم کے پاس سے ہو کر زمین پر اترنا تھا۔تو پھر اس کے کیا معنے ہوئے ، کہ زمین والے ان کو آنحضرت کا سلام پہنچا ئیں۔کیا اس صورت میں حضرت عیسی ان کو یہ جواب نہ دیں گے۔کہ میں تو خود ان کے پاس سے آتا ہوں۔اور تم یہ سلام کیسا دیتے ہو۔یہ تو وہی مثال ہوئی۔کہ گھر سے میں آؤں اور خبریں تم دو۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت رسول کریم اور آپ کے اصحاب کا یہی عقیدہ اور مذہب تھا کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے اور دنیا میں واپس نہیں آسکتے اور آنے والا مسیح اسی اُمت میں سے بروزی رنگ میں ہوگا۔اللهم ايده و انصره واخذل اعداء هـ آمین