ذکر حبیب

by Other Authors

Page 202 of 381

ذکر حبیب — Page 202

202 دخل شیطان سے پاک الہام اس بات کا ذکر آیا۔کہ لاہوری علماء نے الہی بخش ملہم سے یہ سوال کیا ہے کہ آیا تمہارا الہام تلبیس ابلیس سے معصوم ہے یا نہیں۔جس کے جواب میں الہی بخش نے کہا کہ میرا الہام دخلِ شیطان سے پاک نہیں۔اس پر حضرت اقدس امام معصوم نے فرمایا: ,, یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس میں کیا سر ہے اور کسی کا الہام یا کشف شیطان کے دخل سے کہاں تک پاک ہوتا ہے۔انسان کے اندر دو قسم کے گناہ ہوتے ہیں۔ایک وہ جس سے خدا کی نافرمانی دیدہ دانستہ کرتا ہے اور بے باکی سے گناہ کرتا ہے۔ایسے لوگ مجرم کہلاتے ہیں۔یعنی خدا سے اُن کا بالکل قطع تعلق ہو جاتا ہے۔اور شیطان کے ہو جاتے ہیں۔اور دوسرے وہ لوگ جو ہر چند بدی سے بچتے ہیں۔مگر بعض دفعہ بسبب کمزوری کے کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔سو جس قدر انسان گنا ہوں کو چھوڑتا۔اور خدا کی طرف آتا ہے۔اُسی قدر اُس کے خواب اور کشف دخل شیطانی سے پاک ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ جب وہ اُن تمام دروازوں کو بند کر دیتا ہے جو شیطان کے اندر آنے کے ہیں۔تب اس میں سوائے خدا کے اور کچھ نہیں آتا۔جب تم سنو کہ کسی کو الہام ہوتا ہے۔تو پہلے اُس کے الہامات کی طرف مت جاؤ۔الہام کچھ شے نہیں ، جب تک انسان اپنے تئیں شیطان کے دخل سے پاک نہ کرلے اور بیجا تعصبوں اور کینوں اور حسدوں سے اور ہر ایک خدا کو ناراض کرنے والی بات سے اپنے آپ کو صاف نہ کر لے۔دیکھو اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک حوض ہے۔اور اس میں بہت سی نالیاں پانی کی گرتی ہیں۔پھر اُن نالیوں میں سے ایک کا پانی گندہ ہے۔تو کیا وہ سب پانی کو گندہ نہ کر دے گا۔یہی راز ہے جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت کہا گیا ہے کہ ما ینطق عن الهوى ان هو الا وحي يوحى - ہاں انسان کو ان کمزوریوں کے دُور کرنے کے واسطے استغفار بہت پڑھنا چاہیے۔گناہ کے عذاب سے بچنے کے واسطے استغفار ایسا ہے۔جیسا کہ ایک قیدی جرمانہ دے کر اپنے تئیں قید سے آزاد کرالیتا ہے۔(۳) ڈائری امام علیہ السلام بیعت امرالہی سے ۷ امتی ۱۹۰۱ء۔سوال ہوا۔کیا آپ دوسرے صوفیا اور مشائخ کی طرح عام طور پر بیعت لیتے ہیں ، یا بیعت لینے کے لئے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہے۔فرمایا ” ہم تو امرالہی۔کرتے ہیں۔جیسا کہ ہم اشتہار میں بھی یہ الہام لکھ چکے ہیں۔کہ ان الــذيــن يبايعونك انما