ذکر حبیب — Page 175
175 فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے ہمارے سلسلہ کے واسطے اپنی حکمت سے بھی وقت رکھا ہوا تھا۔مگر وقت نازک ہے۔مثل ہے کہ ہر خزانہ پر سانپ ہوتا ہے۔کوئی نعمت بجز تکالیف کے نہیں ملتی۔جب تک زلازل نہ آئیں کامیابی نہیں ہوتی۔احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا امنا وهم لا يفتنون - ہمارى جماعت نے ہنوز ابتدائی منازل طے کرنے ہیں۔بجز تقویٰ کے یہ دریا پار نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کی خاص نصرتوں کی ضرورت ہے۔جو متقیوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ان الله مع الذين اتقوا۔فرمایا۔چاہیے کہ ہماری جماعت کے لوگوں میں کسل ، نفاق ، اور دنیا پرستی کی کو ئی آمیزش نہ ہو۔جب تک کہ انسان پاک نہ ہو۔خدا کو اُس کے لئے غیرت نہ آتی۔جماعت کے آدمیوں کو چاہیے کہ ایک دوسرے سے محبت کریں۔کسی سے استہزاء نہ کریں۔شیطان جو بھائیوں کے درمیان تفرقہ کروا دیتا ہے اور وہ جس قدر کامیابی استہزاء کرانے سے حاصل کرتا ہے۔اور طریقوں سے نہیں کر سکتا۔چاہیے کہ مومن میں ستاری کا فعل ہو۔وہ کسی کی نکتہ چینی نہ کرے۔دلوں کی حفاظت بڑے مر دوں کا کام ہے۔تواضع سے کام لینا چاہئیے۔جو تکبر کرتا ہے۔وہ دُکھ سے مرتا ہے۔آپس میں محبت بھی ایک عبادت ہے۔ہر امر جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے کیا جاتا ہے۔وہ عبادت میں داخل ہے۔مصلحت کے ماتحت انتقام بھی جائز ہے۔مگر نفسانی جذبات کے نیچے آ کر اور بے بس ہو کر بدلہ لینا جائز نہیں۔عفو اور اصلاح بڑی خوبی کی باتیں ہیں مگر محل اور موقعہ کا شناخت کرنا ضروری ہے۔بعض لوگ انتقام لینے کے وقت دوسرے کو اتنا دکھ دیتے ہیں ، کہ حد سے گذر کر خود بھی مجرمانہ حرکات میں ماخوذ ہو جاتے ہیں۔جو شخص نا جائز جوشوں کی بلا سے نجات پاتا ہے۔وہ ابدال میں گنا جاتا ہے۔وَقَضَى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ - غیر اللہ کی پو جاصرف بتوں کے ذریعہ سے نہیں ہوتی۔بلکہ اللہ کے حکم کو چھوڑ کر اپنے نفس کے پیچھے لگنا بھی نفس کی پوجا کرنا ہے اور یہ بھی ایک قسم شرک ہے۔آیت قرآن شریف۔کیا لوگ گمان کرتے ہیں۔کہ اتنے پر ہی چھوڑ دئیے جائیں گے کہ منہ سے کہ دیں ہم ایمان لائے اور کوئی آزمائش اُن پر نہ آئے۔تحقیق اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔( صادق ) اور اللہ تعالیٰ نے یہی حکم دیا ہے کہ اس کے سوئے اور کسی کی پو جانہ کرو۔