ذکر حبیب — Page 170
170 کام نہیں کرتے ، جب تک کہ اپنی مرضی کو اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ایک نہ کر لیں۔مُریدین کو احتیاط چاہئیے اور ادب کا لحاظ رکھنا چاہئیے حضور نے ایک تازہ اشتہار میں جو بر طبع تھا۔شیخ مولا بخش صاحب اور ان کے برادر زاده شیخ یعقوب علی صاحب پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔جس کی خبر پا کر شیخ مولا بخش صاحب لاہور سے قادیان آئے۔میں بھی اُن کے ساتھ تھا۔رات ہم بٹالہ میں رہے۔اور میں بہت دُعاء کرتا رہا کہ شیخ صاحب سے یہ ابتلاء دُور ہو۔اور حضرت صاحب پھر اُن پر راضی ہو جائیں۔قادیان پہنچ کر شیخ صاحب نے حضور کی خدمت میں معذرت کی اور اپنے لئے اور شیخ ک، یعقوب علی صاحب کے واسطے معافی چاہی۔حضور نے از راہ کرم معافی دی۔اور اشتہار کی کاپی منگوا کر ہر دو نام اور ان کافر کر کاٹ دیا۔خدا کو کسی کی پرواہ نہیں فرمایا : ”ہم تو خود اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے ہیں۔کیونکہ اُس کو کسی کی پر واہ نہیں، مسیح کہاں اُترا فرمایا : ” شروع شروع میں لوگ ہمیں اپنی خوابیں آ کر سُنایا کرتے تھے اور کہتے تھے۔ہم نے خواب دیکھا ہے۔کہ مسیح آیا ہے۔اور آسمان سے اترا ہے اور اس آپ کے کمرے میں اُترا ہے۔یرانی نوٹ بک ۱۸۹۸ء الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو حضرت میر ناصر نواب نے مجھے سُنایا۔۱۱ اگست ۱۸۹۸ء هو الذي اخرج مرغمیک فخضر دعویک۔اگست ۱۸۹۸ء۔چوہدری رستم علی صاحب ( مرحوم کورٹ انسپکٹر ) اور عبدالعزیز صاحب پٹواری سیکھوان (ساکن او جلہ ) کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اُن کو ایک علو عطاء کیا ہے کہ ایسی ملازمتوں میں خدا تعالیٰ نے انہیں صاف رکھا اور صالح بنایا۔“ پرانی نوٹ بک ۳ ۱۹۰۲ء ۱۵ / اگست ۱۹۰۲ء صبح۔الہام حضرت مسیح موعود علیہ السلام تخرج الصدور الى القبور - پرانی کاپی ۱۹۰۴ء میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے درد کمر سے تکلیف ہے۔حضور نے