ذکر حبیب

by Other Authors

Page 161 of 381

ذکر حبیب — Page 161

161 امر کا مدار اُس کی نیت پر ہے۔اگر کسی کی نیت لذات کی نہیں بلکہ نیت یہ ہے کہ اس طرح خدام دین پیدا ہوں ، تو کوئی حرج نہیں۔محبت کو قطع نظر کر کے اور بالائے طاق رکھ کر یہ اختیاری امر نہیں۔باقی امور میں سب بیویوں کو برابر رکھنا چاہئیے مثلاً پار چات، خرچ خوراک، مکان معاشرت حتی کہ مباشرت میں مساوات ہونی ضروری ہے۔اگر کوئی شخص ان حقوق کو پورے طور پر ادا کر نہیں سکتا تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ کثرت ازدواج کرے بلکہ عورتوں کے حقوق ادا کرنا ایسا تا کیدی فرض ہیا گر کوئی شخص ان کو ادا نہیں کر سکتا تو اس کے واسطے بہتر ہے کہ وہ مجرد ہی رہے۔ایسے لذات میں پڑنے کی نسبت جن سے خدا تعالیٰ کا تازیانہ ہمیشہ سر پر رہے۔یہ بہتر ہے کہ انسان تلخ زندگی بسر کرے اور معصیت میں پڑنے سے بچار ہے۔اگر انسان اپنے نفس کا میلان اور غلبہ شہوت کی طرف دیکھے کہ اس کی نظر بار بار خراب ہوتی ہے تو اس معصیت سے بچنے کے واسطے بھی جائز ہے کہ انسان دوسری شادی کر لے لیکن اس صورت میں پہلی بیوی کے حقوق کو ہرگز تلف نہ کرے بلکہ چاہیے کہ پہلی بیوی کی دلداری پہلے سے زیادہ کرے کیونکہ جوانی کا بہت سا حصہ انسان نے اس کے ساتھ گذارا ہوا ہوتا ہے اور ایک گہرا تعلق اس کے ساتھ قائم ہو چکا ہوا ہوتا ہے۔پہلی بیوی کی رعایت اور دلداری یہاں تک ضروری بیا گر کوئی ضرورت مرد کو ازدواج ثانی کی محسوس ہو لیکن وہ دیکھتا ہے کہ دوسری بیوی کے کرنے سے اُس کی پہلی بیوی کو سخت صدمہ ہوتا ہے اور حد درجہ کی اُس کی دل شکنی ہوتی ہے۔تو اگر وہ صبر کر سکے اور معصیت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو اور کسی شرعی ضرورت کا اس سے خون نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں اگر انسان اپنی ضرورتوں کی قربانی اپنی سابقہ بیوی کی دلداری کے لئے کر دے اور ایک ہی بیوی پر اکتفاء کرے تو کوئی حرج نہیں ہے اور اُسے مناسب ہے کہ اس صورت میں دوسری شادی نہ کرے۔قرآن شریف کا منشاء زیادہ بیویوں کی اجازت سے یہ ہے کہ تم کو تقویٰ پر قائم رکھے اور دوسرے اغراض مثل اولاد صالحہ کے حاصل کرنے اور خویش واقارب کی نگاہ داشت اور ان کے حقوق کی بجا آوری سے ثواب حاصل ہو۔انہی اغراض کے لحاظ سے اختیار دیا گیا ہے کہ ایک دو تین چار عورتوں تک نکاح کر لو لیکن اگر اُن میں عدل نہ کر سکو تو پھر یہ فسق ہوگا اور بجائے ثواب کے عذاب حاصل کرو گیا یک گناہ سے نفرت کی وجہ سے دوسرے گناہوں پر آمادہ ہوئے۔دل دُکھانا بڑا گناہ ہے اور لڑکیوں کے تعلقات بہت نازک ہوتے ہیں۔جب والدین اُن کو اپنے سے جدا اور دوسرے کے حوالے کرتے ہیں تو خیال کرو کہ کیا اُمید میں ان کے دلوں میں ہوتی ہیں۔“