ذکر حبیب

by Other Authors

Page 147 of 381

ذکر حبیب — Page 147

147 دوسری مُبرم جو قطعی ہوتی ہے اور ٹلنے والی نہیں ہوتی مگر دُعا اور صدقہ اس میں بھی فائدہ دیتا ہے۔بعض دفعہ تو وقف اور تاخیر ڈالی جاتی ہے، یا اُسے نرم کر دیا جاتا ہے، یا کسی اور پیرا یہ میں اللہ تعالیٰ فائدہ پہنچا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا کل چیزوں پر قادر نہ تصرف ہے اور اس کے تصرف مخفی ہیں۔وہ جو چاہتا ہے محو کرتا ہے اور جو چاہتا ہے، اثبات کر دیتا ہے۔“ ایمان بالغیب فرمایا کرتے تھے ایمان کا ثواب تب ہی مترتب ہوتا ہے جبکہ غیب کی باتوں کو غیب ہی کی صورت میں قبول کیا جائے اور کھلی کھلی شہادتیں طلب نہ کی جائیں۔جب کوئی نیک بندہ ایمان پر محکم قدم مارتا ہے اور پھر دُعا اور فکر اور نظر سے ترقی چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اُس کی دستگیری کرتا اور اُسے درجہ عین الیقین عطاء کرتا ہے۔ایمان اُسی حد تک ایمان ہے۔جب تک وہ امور جن کو مانا گیا ہے۔کسی قدر پر دہ غیب میں ہیں۔(۲۵) محبت و شفقت فرمایا کرتے تھے کہ ”محبت صرف صلحاء اور نیکوں کے ساتھ کی جاسکتی ہے جن کے قول اور فعل کو ہم بنظر استحسان دیکھتے ہیں اور ہم رغبت رکھتے ہیں کہ اُن کے سے حالات ہم میں بھی پیدا ہو جائیں لیکن شریروں اور بدکاروں کے ساتھ محبت نہیں کی جاسکتی کیونکہ ان کے ساتھ محبت کرنے کے یہ معنے ہوں کیہم بھی اُن کی طرح بد کا رہنا چاہتے ہیں۔ہاں اُن پر شفقت کی جاسکتی ہے تا کہ نرمی سے ہم اُن کی اصلاح کریں اور اُن کی خیر خواہی کریں اور اُن کو بدی سے بچائیں۔محبت کی حقیقت یہ ہے کہ انسان محبوب کے رنگ میں رنگین ہو جائے۔(۲۶) حکومت بر طانیہ پنجاب میں سکھوں کے راج میں جو مسلمانوں پر سکھ حکام کی طرف سے مظالم تھے اور اذان دینے کی رکاوٹ تھی اور مساجد پر بیجا قبضے کر لیتے تھے اور جان ومال ہر وقت خطرہ میں تھا۔اس کے مقابل حکومت برطانیہ کی مذہبی آزادی اور امن اور تار ، ڈاک، ریل وغیرہ کی آسودگیوں کا ذکر کرتے ہوئے۔حکومت برطانیہ کا مشکور ہونے اور اس کی امداد کرنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔(۲۷) تازہ معجزات کی ضرورت فرمایا کرتے تھے پہلے انبیاء کے نشانات اور معجزات مشکوک ہو کر بطور قصے کہانیوں کے