ذکر حبیب

by Other Authors

Page 133 of 381

ذکر حبیب — Page 133

133 احترام حضرت اُم المومنین حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جس دالان میں عموماً سکونت رکھتے تھے۔جس کی ایک کھڑکی کو چہ بندی کی طرف کھلتی ہے اور جس میں سے ہو کر بیت الدعا کو جاتے ہیں۔اُس کمرے کی لمبائی کے برابر اُس کے آگے جنوبی جانب میں ایک فراخ صحن تھا۔( یہ وہی صحن ہے جس میں ایک شب ۱۸۹۷ء میں عاجز نے حضرت مسیح موعود کے حضور میں ایک مضمون کے نقل کرنے میں گزاری تھی۔یہ مضمون حضرت صاحب ڈاکٹر کلا رک والے مقدمہ میں بطور جواب دعویٰ کے لکھ رہے تھے۔حضرت صاحب مضمون لکھتے تھے اور میں اُس کی صاف نقل کرنے پر مامور تھا۔برادرم مرحوم مرزا ایوب بیگ صاحب اُس مسودہ کو پڑھتے تھے۔اور میں لکھتا تھا۔اس طرح حضرت کے حضور عشاء سے اذانِ فجر تک ہم اس صحن میں حاضر رہے۔گرمی کی راتیں تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کا اہل وعیال سب اسی صحن میں سوتے تھے لیکن موسم برسات میں یہ دقت ہوتی تھی کہ اگر رات کو بارش آجائے تو چار پائیاں یا تو دالان کے اندر لے جانی پڑتی تھیں۔یا نیچے کے کمروں میں۔اس واسطے حضرت ام المومنین نے یہ تجویز کی کہ اس صحن کے جنوبی حصہ پر چھت ڈال دی جائے تا کہ برسات کے واسطے چار پائیاں اُس کے اندر کر لی جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس تبدیلی کے واسطے حکم دیا اور راج مزدور کام کے واسطے آگئے۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کو جب اس تبدیلی کا حال معلوم ہوا تو وہ اس تجویز کی مخالفت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔چند اور خدام بھی ساتھ تھے۔حضرت مولوی صاحب نے عرض کی کہ ایسا کرنے سے صحن تنگ ہو جائے گا۔ہوا نہ آئے گی۔صحن کی خوبصورتی جاتی رہے گی وغیرہ وغیرہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کی باتوں کا جواب دیا مگر آخری بات جو حضور نے فرمائی اور جس پر سب خاموش ہوئے۔وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وعدوں کے فرزند اس بی بی سے عطاء کئے ہیں جو شعائر اللہ میں سے ہیں۔اس واسطے اس کی خاطر داری ضروری ہے اور ایسے امور میں اس کا کہنا ماننا لازمی ہے۔جان محمد کا خواب قادیان میں ایک کشمیری جان محمد تھا جومسجد اقصی میں اذان دیتا اور نماز پڑہایا کرتا تھا۔اس کا ایک خواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان کیا کرتے هچن ایام میں ہمارے اور ہمارے شرکاء (مرزا امام دین مرزا نظام دین وغیرہ ) میں کچھ مقدمات چل رہے تھے۔اُن ایام میں