ذکر حبیب

by Other Authors

Page 121 of 381

ذکر حبیب — Page 121

121 ہجوم تھا کہ سیر کو جانا مشکل ہو گیا تا کہ نو واردین مصافحہ کر لیں۔قریباً دو گھنٹہ تک آپ کھڑے رہے اور عشاق آگے بڑھ بڑھ کر آپ کا ہاتھ چومتے رہے۔اس وقت کا نظارہ قابلِ دید تھا۔ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ سب سے پہلے میں آگے بڑھوں اور زیارت کروں۔ایک دیہاتی دوسرے کو کہہ رہا تھا کہ اس بھیڑ میں سے زور کے ساتھ اندر جا، اور زیارت کر اور ایسے موقع پر بدن کی بوٹیاں بھی اُڑ جاویں ، تو پر واہ نہ کر۔ایک صاحب بولے کہ لوگوں کو بہت تکلیف ہے اور خود حضرت ایسے گردوغبار میں اتنے عرصہ سے تکلیف کے ساتھ کھڑے ہیں۔میں (مفتی محمد صادق ) نے کہا۔لوگ بیچارے سچے ہیں۔کیا کریں تیرہ سو سال کے بعد ایک نبی کا چہرہ دُنیا میں نظر آیا ہے۔پروانے نہ بنیں تو کیا کریں۔اُس وقت خدا تعالیٰ کی وہ وحی یاد آ کر غالب اور نیچے خدا کے آگے سر جھک جاتا تھا جس میں آج سے پچیس سال پہلے کہا گیا تھا کہ لوگ دُور دُور سے تیرے پاس آویں گے۔یہی بازار یہی میدان تھے جن میں سے حضرت اکیلے گزر جاتے تھے اور کوئی خیال نہ کرتا تھا کہ کون گیا ہے اور یہی میدان ان ہزاروں آدمیوں سے بھر گئے ہیں جو صرف اس کی پیاری صورت دیکھنے کے عاشق ہیں۔کاش! کہ اب بھی مخالفین سوچیں ، اور غور کریں کیا یہ انسان کا کام ہیوہ ایسی بات اپنے پاس سے بنائے اور پھر وہ ایسے زور سے با وجود مخالفت کے پوری بھی ہو جائے۔( نوٹ :۔یہ رپورٹ انہی دنوں اخبار بدر ۱۹۔جنوری ۱۹۷ء میں چھپی تھی۔) تاریخ تعمیر مکان جب عاجز نے 1906ء میں اپنا ر ہائشی مکان دار الصدق قادیان میں بنوایا تو ہمارے مکرم دوست مولوی حکیم محمد حسین صاحب احمدی احمد آبادی نے عاجز کے مکان کے واسطے ایک تاریخ از روئے محبت لکھ کر ارسال فرمائی جو درج ذیل کی جاتی ہے۔محمد صادق ما مفتی و صدق که باشد بدر او انوار خورشید بنا یک منزل اندر قادیاں کرد ضياء او بود آثار خورشید حسین از وی نویسد سال تعمیر ۱۳۲۵ بنام او که باشد دار خورشید الہی باد روشن تا قیامت