ذکر حبیب

by Other Authors

Page 120 of 381

ذکر حبیب — Page 120

120 حضرت کے اس فرمان کو سن کر بعض دوستوں نے اپنی خدمات کو اس کام کے واسطے وقف کیا۔یہ وہ دوست ہیں ، جو اس وقت قادیان میں رہتے تھے اور ان کی تعداد اس وقت تک بارہ تک پہنچی تھی۔حضرت نے عاجز راقم ( محمد صادق) کو حکم دیا کہ ایسے بزرگ اصحاب کی فہرست بناتا جاؤں۔چنانچہ ایک جگہ رجسٹر اس فہرست کے واسطے کھولا گیا تھا جو اب تک میرے پاس موجود ہے اور تمام درخواستیں ایک اکٹھی محفوظ رکھی جاتی تھیں۔سب سے پہلی درخواست شیخ تیمور صاحب طالب علم گورنمنٹ کالج لاہور کی تھی اور ان کے علاوہ چوہدری فتح محمد صاحب، مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب، میاں محمد حسن صاحب، عاجز راقم ، مولوی غلام محمد صاحب، ماسٹر محمد دین صاحب، شیخ عبدالرحمن صاحب ،اکبر شاہ خان صاحب، مولوی عظیم اللہ صاحب، مولوی فضل دین صاحب، خواجہ عبد الرحمن صاحب اور قاضی عبداللہ صاحب نے بھی حضرت کے حضور درخواستیں دی تھیں۔ان سب درخواستوں پر حضور علیہ السلام نے خوشنودی کا اظہار فرمایا تھا مگر سر دست کسی کو مقرر نہیں فرمایا تھا۔ان میں سے جو صاحب تعلیم پاتے تھے، یا امتحان دے چکے تھے ، ان کو تعلیم کے پورا کرنے یا امتحان کے نتائج کا انتظار کرنے کی ہدایت فرمائی تھی۔روسی سیاح ڈکسن نام ۲۸ رنومبر ۱۹۷ء کو ایک روسی سیاح ڈکسن نام قادیان پہنچے۔صبح کا وقت تھا۔حضرت حکیم الامت رضی اللہ عنہ کے شفاء خانہ میں وہ فرش پر بیٹھ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ان کی ملاقات کے واسطے وہیں تشریف لائے۔ڈکسن صاحب اُردو نہیں جانتے تھے۔مولوی محمد علی صاحب تر جمان ہوئے اور دو دن حضرت صاحب انہیں تبلیغ کرتے رہے۔صرف ایک شب وہ ٹھیرے۔گول کمرے میں اُنہیں ٹھیرایا گیا۔دوسری صبح ان کو تبلیغ کرتے ہوئے حضرت صاحب نہر کے پل تک چلتے ہوئے ان کے ساتھ چلے گئے۔جماعت کے بہت سے خدام ساتھ تھے۔نہر پر پہنچ کر انہیں یکہ پر سوار کرایا گیا اور حضرت صاحب بمعہ جماعت واپس آئے۔ڈکسن صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فوٹو بھی لیا تھا۔تیرہ سوسال کے بعد ایک نبی ۲۶۔دسمبر ۱۹۰۷ ء کی صبح کو حضرت اقدس باہر سیر کے واسطے تشریف لے چلے۔احباب جوق در جوق ساتھ ہوئے۔عاشق پروانہ کی طرح زیارت کے واسطے آگے بڑھتے تھے۔اس قدر