ذکر حبیب — Page 113
113 یہ جو دیکھا گیا ہے کہ ان کی کھال بھی اُتری ہوئی ہے۔اس سے یہ مُراد ہے کہ اُن کے تمام پردے فاش ہو جائیں گے اور اُن کے عیوب ظاہر ہو جاویں گے۔فرمایا : اگر ہم افترا کرتے ہیں تو خدا خود ہمارا دشمن ہے اور ہمارے لئے بچاؤ کی کوئی صورت ہو ہی نہیں سکتی لیکن اگر یہ کاروبار خدا کی طرف سے ہے اور مصائب اسلامی کے واسطے اللہ تعالیٰ نے خود ایک سامان بنایا ہے تو اس کا مقابلہ خدا تعالیٰ کو کس طرح پسند آ سکتا ہے۔بڑا بد قسمت ہے جو اس کو توڑنا چاہتا ہے۔یہ نصیحت کی : عورتوں کو نصیحت جون ۱۹۰۶ء۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اندرون خانہ عورتوں کو غیبت کرنے والے کی نسبت قرآن کریم میں ہے کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے۔عورتوں میں یہ بیماری بہت ہے۔آدھی رات تک بیٹھی غیبت کرتی ہیں اور پھر صبح اُٹھ کر وہی کام شروع کر دیتی ہیں لیکن اس سے بچنا چاہیئے۔عورتوں کی خاص سورت قرآن شریف میں ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے بہشت میں دیکھا کہ فقیر زیادہ تھے اور دوزخ میں دیکھا کہ عورتیں بہت تھیں۔فرمایا کہ عورتوں میں چند عیب بہت سخت ہیں اور کثرت سے ہیں۔ایک شیخی کرنا کہ ہم ایسے اور ایسے ہیں۔پھر یہ کہ قوم پر فخر کرنا کہ فلاں تو کمینی ذات کی عورت ہے یا فلاں ہم سے نیچی ذات کی ہے۔پھر یہ کہ اگر کوئی غریب عورت اُن میں بیٹھی ہوتی ہے تو اس سے نفرت کرتی ہیں اور اس کی طرف اشارہ شروع کر دیتی ہیں کہ کیسے غلیظ کپڑے پہنے ہیں۔زیور اس کے پاس کچھ بھی نہیں۔فرمایا کہ عورت پر اپنے خاوند کی فرمانبرداری فرض ہے۔نبی کریم نے فرمایا ہے کہ اگر عورت کو اس کا خاوند کہے کہ یہ ڈھیر اینٹوں کا اُٹھا کر وہاں رکھ دے اور جب وہ عورت اُس بڑے اینٹوں کے انبار کو دوسری جگہ پر رکھ دے تو پھر اُس کا خاوند اُس کو کہے کہ پھر اس کو اصل جگہ پر رکھ دے تو اس عورت کو چاہئیے کہ چون و چرا نہ کرے بلکہ اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے۔فرمایا کہ عورتیں یہ نہ سمجھیں کہ ان پر کسی قسم کا ظلم کیا گیا ہے کیونکہ مرد پر بھی ان کے بہت سے حقوق رکھے گئے ہیں بلکہ عورتوں کو گو یا بالکل کرسی پر بٹھا دیا ہے اور مرد کو کہا کہ اُن کی خبر گیری کر۔اس کا تمام کپڑا کھانا اور تمام ضروریات مرد کے ذمہ ہیں۔فرمایا کہ دیکھو موچی ایک جوتی میں