ذکر حبیب — Page 94
94 غذائیت بڑھتی جاتی ہے شہوات اور طرح طرح کے اخلاق ردیۃ اور اخلاق فاسدہ زور پکڑتے جاتے ہیں اور اسی طرح ایک وقت پر اپنے پورے کمال انسانی پر پہنچتا ہے۔اور بھی اُس کے جسمانی جنم ہوتے ہیں یعنی کبھی گئے، کبھی سورہ کبھی بندر، کبھی گائے، کبھی شیر وغیرہ جانوروں کے اخلاق اور صفات اپنے اندر پیدا کرتا جاتا ہے۔گویا کل مخلوقات الارض کی خاصیت اُس کے اندر ہوتی جاتی ہے۔اسی طرح جب انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ سلوک کا رستہ چاہے گا تو یہ ساری خاصیتیں اس کو طے کرنی پڑیں گی اور یہی تناسخ اصفیاء نے مانا ہے۔غالباً یہی تناسخ ہنود میں بھی تھا مگر بے علمی سے دھوکا لگ گیا اور سمجھ الٹی ہو گئی۔اسی کے مطابق صاحب مثنوی نے کہا ہے۔ہچو سبزه با رہا روئیده ام ہفت صد و هفتاد قالب دیده ام حقیقت دعا اکتوبر ۱۹۰۴ء۔فرمایا: یاد رکھو کہ انسان کی بڑی سعادت اور اس کی حفاظت کا اصل ذریعہ دُعا ہی ہے۔یہی دُعا اس کے لئے پناہ ہے اگر وہ ہر وقت اس میں لگا ر ہے۔یہ بھی یقینا سمجھو کہ یہ ہتھیار اور نعمت صرف اسلام ہی میں دی گئی ہے دوسرے مذاہب اس عطیہ سے محروم ہیں۔آر یہ لوگ بھلا کیوں دُعا کریں گے جبکہ انکا یہ اعتقاد ہے کہ تناسخ کے چکر میں سے ہم نکل ہی نہیں سکتے اور کسی گناہ کی معافی کی کوئی اُمید ہی نہیں ہے۔ان کو دُعا کی کیا حاجت اور کیا ضرورت اور اس سے کیا فائدہ۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آریہ مذہب میں دُعا ایک بے فائدہ چیز ہے اور پھر عیسائی دُعا کیوں کریں گے جبکہ وہ جانتے ہیں کہ دو بار کوئی گناہ بخشا نہیں جائے گا کیونکہ مسیح دوبارہ تو مصلوب ہو ہی نہیں سکتا۔پس یہ خاص اکرام اسلام کے لئے ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ امت مرحومہ ہے لیکن اگر آپ ہی اس فضل سے محروم ہو جائیں اور خود ہی اس دروازہ کو بند کر دیں تو پھر کس کا گناہ ہے؟ جب ایک حیات بخش چشمہ موجود ہے اور آدمی ہر وقت اس سے پانی پی سکتا ہے پھر بھی اگر کوئی اس سے سیراب نہیں ہوتا ہے تو خود طالب موت اور نشانہ ہلاکت ہے۔اس صورت میں تو چاہئیے کہ اس پر منہ رکھ دے اور خوب سیراب ہو کر پانی پی لیوے۔یہ میری نصیحت ہے جس کو میں ساری نصائح قرآنی کا مغز سمجھتا ہوں۔قرآن شریف کے تین پارے ہیں اور سب کے سب نصائح سے لبریز ہیں لیکن ہر شخص نہیں جانتا کہ ان میں وہ نصیحت کون سی ہے جس پر اگر مضبوط ہو جائیں اور اس پر پورا عملدرآمد کریں تو قرآن کریم کے سارے احکام پر چلنے اور ساری منہیات سے بچنے کی توفیق مل