ذکر حبیب — Page 93
93 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عاجز راقم کو خواب میں دیکھا ۱۶ اپریل ۱۹۰۴ء - فجر کے وقت فرمایا کہ ہم نے ایک خواب دیکھا ہے کہ ایک سڑک ہے جس پر کوئی درخت ہے اور ایک مقام دارہ کی طرح ہے۔میں وہاں پہنچا ہوں۔مفتی محمد صادق میرے ساتھ تھے۔دو چار اور دوست بھی ہمراہ تھے لیکن اُن کے نام اور وہ حصہ خواب کا بھول گیا ہوں۔“ دُعا نہ کرنے کا نتیجہ ۱۹ار اپریل ۱۹۰۴ ء۔فرمایا : " دُعا عمدہ شے ہے۔اگر توفیق دعا ہو تو یہی ذریعہ مغفرت ہو جاتی ہے اور اسی کے ذریعہ سے رفتہ رفتہ خدا تعالیٰ مہربان ہو جاتا ہے۔دُعا کے نہ کرنے سے سب سے اول دل پر زنگ چڑھتا ہے ، پھر قساوت پیدا ہوتی ہے، پھر خدا سے اجنبیت ، پھر عداوت ، پھر نتیجه سلب ایمان ہوتا ہے۔گول مول مصالحت نا پسند جون ۱۹۰۴ء میں ایام مقدمہ کرم دین میں بعض معزز مسلمانوں نے یہ کوشش کی کہ حضرت صاحب اور کرم دین کے درمیان مصالحت ہو جائے اور ہر دو فریق اپنے اپنے مقدمات کو واپس لے لیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں نے تو کرم دین پر کوئی مقدمہ نہیں کیا، حکیم فضل دین صاحب نے کیا ہے۔مگر میں اُن کو حکم دے کر مقدمہ واپس کرا دیتا ہوں بشرطیکہ کرم دین اقرار کرے کہ خطوط محولہ مقدمہ اور مضمون سراج الاخبار اُسی کے ہیں۔یا وہ خدا کی قسم کھا کر لکھ دے کہ وہ مضمون میرے نہیں ہیں۔مگر کرم دین کے دل میں چور تھا وہ اپنے جھوٹ سے واقف تھا اس واسطے قسم کی جرات نہ کر سکا اور مقدمہ جاری رہا اور آخر خدا تعالیٰ نے عدالت اپیل سے حضرت صاحب کی صداقت اور کرم دین کے جھوٹ کو ثابت اور شائع کرا دیا۔حضرت صاحب نے مقدمات کی تکالیف کو برداشت کرنا پسند کیا مگر گول مول مصالحت کو پسند نہ کیا۔اخلاقی تناسخ جولائی ۱۹۰۴ء - فرمایا : انسان جب خدا تعالیٰ کی طرف ترقی کرنے لگتا ہے تو پہلے اُس کی حالت بہت ادنے ہوتی ہے جس طرح ایک بچہ آج پیدا ہوا ہے تو اُس میں صرف دُودھ چوسنے کی ہی طاقت ہوتی ہے۔اور کچھ نہیں۔پھر جب غذا کھانے لگتا ہے تو آہستہ آہستہ غصہ ، کینہ، خود پسندی، نخوت علی ہذا القیاس سب باتیں اُس میں ترقی کرتی جاتی ہیں اور دن بدن جوں جوں اس کی