ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 57
57 بیت الفضل - لندن ۲۱ رو نمبر ۶۱۹۹۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نماز کا عرفان خدا کی ہستی سے تعلق بڑھانے کا ذریعہ ہے تشہد تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : آج کا خطبہ بھی گزشتہ خطبات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں میں یہ سمجھانے کی کوشش کرتا چلا آیا ہوں کہ کس طرح نماز کے ساتھ ایک ذاتی تعلق پیدا کیا جائے اور کس طرح نماز کے مطالب میں ڈوب کر نماز سے لذت حاصل کی جائے اور وہ مقصد پالیا جائے جو نماز کی ادائیگی کا حقیقی مقصد ہے یعنی ایک ذریعہ ہے بندے کو خدا سے ملانے کا۔پس جب تک ذریعے کا صحیح استعمال نہ ہو اس وقت تک ذریعہ اپنے مقصود کو پا نہیں سکتا۔پس خدا تعالیٰ کا وصل خدا تعالیٰ سے تعلق مقصود بالذات ہے اور نماز سے جتنا تعلق بڑھے گا ، نماز کا جتنا عرفان بڑھے گا اتنا ہی زیادہ خدا تعالی کی ہستی سے تعلق بڑھے گا اور خدا تعالیٰ کا عرفان بڑھے گا اور نماز کے ذریعے آپ اپنی زندگی کے اپنی پیدائش کے مقصد کو پاسکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم نماز سے بے سوچے ھے گزرتے چلے جائیں تو تمام عمر کی نماز میں بھی اس عارف باللہ کی ایک نماز کے برابر نہیں ہو سکتیں جو ایک نماز سے گزرتا ہے مگر اس میں ڈوب کر اس کو اپنا کر اس کا ہو کر اس میں سے نکلتا ہے۔اسی لئے بعض دفعہ بعض کم فہم لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ایک ہی نماز ہوا کرتی ہے جو خدا سے ملا دیتی ہے اور صرف ایک ہی نماز کافی ہے۔یہ ایک بالکل غلط اور جاہلانہ تصور ہے۔بعض جو زیادہ عارف بننے کی کوشش کرتے ہیں اور صوفیانہ مزاج رکھتے ہیں یا نہیں مگر لوگوں کو دکھاتے ضرور ہیں۔وہ یہ کہا کرتے ہیں کہ بس زندگی کا ایک لمحہ کافی ہے وہ لمحہ جو خدا سے ملا دے۔اور مفہوم یہ ہوتا ہے کہ بس $