ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 55
55 سیدھی عمودی چیزوں پر بھی وہ چڑھ جائے اور عام سطح پر بھی اسی طرح دوڑنے لگے۔جس طرح بعض ان میں سے پانی کی سطح پر بھی دوڑنے کی استطاعت رکھتے ہیں اس کیڑے کے پاؤں پر آپ غور کریں تو عقل دنگ رہ جائے گی۔اور بغیر کسی ملک کے ایک انسان جو علم ہو اور فراست و در دوبارہ یہ گا اور ہزار بار یہ جو صاحب علم ہو اور صاحب فراست ہو وہ دوبارہ یہ اعلان کرے گا اور ہزار بار یہ اعلان کرے گا کہ سة بتا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز تو خدا تعالٰی کی صفتوں میں تو ہر جگہ رحمانیت جلوہ گر دکھائی دیتی ہے اور رحمانیت کو تخلیق میں ڈھالنے کے لئے علم کی ضرورت ہے کیونکہ تخلیق میں سائنس بھی ہے اور ٹیکنالوجی بھی ہے۔یہ وہ دو چیزیں اکٹھی ہو کر تخلیق میں ڈھلتی ہیں۔علم کے بغیر تخلیق ممکن ہی نہیں ہے۔پس علم جب درجہ کمال کو پہنچا ہو تب تخلیق خوبصورت ہوتی ہے اس کے باوجود تخلیق کوئی عملی جامہ نہیں اوڑھ سکتی یا عمل کی صورت میں ڈھل نہیں سکتی جب تک ساتھ ٹیکنالوجی بھی نہ ہو تو اللہ تعالٰی کو رحمان خدا کو علم کے بغیر رحمانیت کو تخلیق میں ڈھالنے کی استطاعت ہی نہیں ہو سکتی تھی اور سب سے زیادہ عالم وہ ہوتا ہے جو چیز کو خود بنانے والا ہے۔دوسرے بھی سمجھتے ہیں اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔کسی کے بنائے ہوئے ماڈل پر غور کرتے ہیں اور گہرائی میں اترنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جو بنانے والا ہے اس سے بڑھ کر عالم دنیا میں کوئی نہیں ہو سکتا۔پس رحمان میں ہی علم بھی شامل ہے اور رحمان میں ہی تخلیق بھی شامل ہے۔پس جب ہم کہتے ہیں اياك نعبد وإياكَ نَسْتَعِينُ تو بلا شبہ کوئی ناقص سودا نہیں کر رہے ہوتے۔کوئی خوف والا سودا نہیں کر رہے ہوتے۔کامل یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس سے ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ صرف تیری عبادت کریں گے اور کسی اور کو عبادت کے لائق نہیں سمجھیں گے۔ہم پورے یقین اور عرفان کے ساتھ یہ عہد کر رہے ہیں۔ان کا یہ مطالبہ ایک طبعی آواز ہے جو اس کے پیچھے آنی چاہیے کہ اے ہمارے معبود! پھر ہماری ضرورتیں بھی تو ہی پوری کرنا کیونکہ تو تمام ضرورتیں پوری کرنے کی اہمیت رکھتا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مضامین ہیں مگر اب چونکہ وقت ختم ہو رہا ہے میں انشاء