ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 51 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 51

51 دکھائی دیں گے اور خدا کی حمد اس کے اندر اس غورو خوض کے بعد کیفیت پیدا کرے گی یا کیفیتیں پیدا کرے گی اور انہی کیفیتوں کا نام نماز ہے۔انہی کیفیتوں کا نام عبادت ہے۔اس عبادت کے بعد جب آپ ایاک نستعین کہتے ہیں تو بلا ترد یقین کے ساتھ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا سے پھر ضرو ر ددملے گی لیکن دوسرے دروازے بند کرنے پڑتے ہیں۔ان معنوں میں بند کرنے پڑتے ہیں کہ آخری یقین بلا شرکت غیرے نہی رہتا ہے کہ صرف ایک ذات ہے اس کے سوا کوئی نہیں۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے جب آپ واپس خدا تعالی کی ان چار صفات کی طرف جاتے ہیں جن کا سورۂ فاتحہ میں ذکر ہے تو تعجب پیدا ہوتا ہے کہ نہیں تو یہ بتایا گیا که ایاک نعبد کہو اور میں چار صفات ہیں جو بنیادی طور پر خدا کا تعارف کروانے کے لئے کافی ہیں لیکن ان میں بہت سی صفات موجود ہی نہیں ہیں۔ہم جب کہہ دیتے ہیں کہ ہم صرف تیری عبادت کریں گے اور صرف تجھ سے ہی مانگیں گے تو اگر ہماری ضرورتیں اور ہوں اور زائد ہوں تو یہ عہد تو ہمارے لئے موت کا پیغام بن جائے گا۔آپ ایک محدود طاقت والے انسان سے یہ رشتہ باندھ بیٹھیں جس کی طاقتیں بھی محدود ہیں جس کی پہنچ محدود ہے جو ہمیشہ رہ بھی نہیں سکتا اس سے یہ عہد کر بیٹھیں کہ میں جو کچھ مانگوں گا تجھ سے ہی مانگوں گا جب اس کی ضرورت دینے والے کی طاقت سے باہر ہوگی وہیں وہ مارا گیا۔ایک دفعہ ایک عباسی وزیر نے جو عباسی خلیفہ کے وزیر تھے کسی کے ساتھ احسان کا معاملہ کیا تو اس نے احسان کا شکریہ اس رنگ میں ادا کیا کہ اس سے تحریری معاہدہ کیا کہ اے وزیر! میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ آئندہ میں تیرے دروازے کے سوا کسی دروازے کی طرف نہیں دیکھوں گا اور تیرے سوا کسی سے نہیں مانگوں گا لیکن کچھ عرصے کے بعد نہ وہ وزیر رہا نہ وہ دور رہا اور یہ وعدہ از خودہی جھوٹا ثابت ہو گیا۔پس جب ہم ایاک نعبد و ایاک نستعین کہتے ہیں تو غور طلب بات یہ ہے کہ آیا یہ حکمت کی بات تھی بھی کہ نہیں۔کہیں ہم ایسا عہد تو نہیں کر بیٹھے جس کے نتیجے میں بعض ہماری ضرورتیں خدا کی ذات سے باہر رہ جائیں گی اور جب ذات کی طرف واپس لوٹتے ہیں تو وہاں صرف چار صفات ہیں۔ربوبیت رحمانیت رحمیت اور مالکیت اب کیا ان چاروں صفات سے انسان کا گزارہ ہو سکتا