ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 50

50 بھی انسان خدا سے تعلق باندھتا ہے تو یاد رکھے کہ وہاں طاقت کا نام عجز ہے یعنی اپنی کمزوریوں کا احساس۔اور اپنی بڑائی کا احساس کمزوری ہے جس کے بعد انسان خدا سے تعلق کاٹ لیتا ہے۔پس حواس خمسہ کی نا اہلی کو دیکھنے کے لئے آپ کو کہیں بہت دور کے سفر کی ضرورت نہیں اہمیت رکھتے ہوئے بھی ان میں ایک نا اہلیت پائی جاتی ہے۔پس دنیا کی عظیم قوموں کو آپ دیکھیں جو خدا تعالیٰ کی تخلیق پر غور کرتے ہوئے اس تخلیق میں چھپے ہوئے رازوں سے استفادہ کرتے ہوئے عظیم الشان ایجادات کرنے میں کامیاب ہو چکی ہیں اور وہ قومیں آج تمام دنیا پر غالب ہیں لیکن ان کا بھاری حصہ ایسا ہے اور بہت بھاری حصہ ایسا ہے جو خدا کے تصور سے نا آشنا ہے اور ذاتی طور پر خدا سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، خدا کے تصور کا ایک مبہم سا سایہ ان کے ذہنوں پر پڑا ہوتا ہے جو تعلق قائم کرنے کے لئے کافی نہیں۔ایک فرضی ساخیال ہے اور ایک کثیر تعداد ان میں سے ایسی ہے جو باشعور طور پر اعلان کرنے کی جرات کرتے ہیں کہ خدا نہیں ہے۔ایسے بھی بڑے بڑے سائنس دان ہیں جنہوں نے بے انتہا تشخص کیا اور قدرت کے بہت بڑے بڑے عظیم را ز پالئے اور سب کچھ پانے کے بعد یہ کہہ کر سب کچھ گنوا بیٹھے کہ ہم نے تو ہر طرف دیکھا ہمیں تو خدا کہیں دکھائی نہیں دیتا۔پس جب میں حواس خمسہ کی بات کرتا ہوں تو وہ کھڑکیاں ہیں دروازے ہیں جہاں تک روشنی پہنچ سکتی ہے مگر دروازے اور کھڑکیاں اچھل اچھل کر روشنیوں تک نہیں پہنچ سکتے۔روشنی ان تک پہنچتی ہے۔اللَّهُ نُورُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ (النور : ۳۶) خدا زمین و آسمان کا نور ہے اور معانی کے علاوہ ایک یہ معنی ہیں کہ تم آنکھیں کھولو نور خود تم تک پہنچے گا اگر تم نور کی طلب کرنے والے ہوگے اور نور کی خواہش رکھنے والے ہوگے۔اگر تم نور کی خواہش رکھو گے تو آنکھیں کھولو گے اور کھولو گے تو ہر طرف سے خدا کے جلوے تم تک پہنچنے لگیں گے اور اگر آنکھیں رکھتے ہوئے آنکھیں بند رکھو گے تو اندرونی طور پر تم میں بظاہر صلاحیت ہوگی لیکن نور تم تک نہیں پہنچ سکے گا۔پس حواس خمسہ تو ہر شخص کو عطاء ہوئے ہیں اور حواس خمسہ کے مضامین پر اگر انسان غور کرتا رہے تو سورۂ فاتحہ میں اس کو بہت ہی خوبصورت رنگ بھرتے ہوئے