ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 515
515 سکتا اور یہ نا ممکن ہے کہ ہر نماز میں نماز کا ہر پہلو سے حق ادا ہو۔اس لئے کہیں نہ کہیں آپ کو کسی جگہ ٹھہر کر نماز کی لذت حاصل کرنی ہوگی اور یہ آپ کے مزاج اور حالات کے مطابق ہے۔ہر لفظ پر اگر آپ گھریں اور اس طرح غور کر کے نماز پڑھیں تو ایک ہی نماز ۲۴ گھنٹے چلتی رہے گی اور یہ ممکن نہیں ہے۔اس لئے اللہ تعالٰی نے مزاج کو ایسا بتایا ہے کہ وہ بدلتے رہتے ہیں۔کبھی کسی خاص مزاج میں انسان نماز پڑھ رہا ہے اور کبھی کسی خاص مزاج میں نماز پڑھ رہا ہے۔کبھی سورۃ فاتحہ کا پہلا حصہ ہے اس نے ہی دل تھام لیا ہے اور آگے نہیں بڑھنے دیتا۔کبھی درمیان میں آکر دل اٹکتا ہے کبھی آخری پر۔کبھی رکوع میں کبھی سجود میں گویا کہ مختلف حالات میں مختلف انسان اپنے مزاج کے مطابق مختلف رنگ میں نماز سے لذت پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس لئے جو شخص متلاشی ہو گا جب اس کو اپنے مزاج کی چیز کہیں ملے گی تو وہ وہیں ٹھہر جائے گا اور وہاں وہ زیادہ لطف اٹھائے گا اور اس طرح کوئی نماز بھی انسان کی ایسی نہیں جو لذتوں اور پھلوں سے خالی رہ جائے لیکن اگر غفلت کی حالت میں نمازیں ادا کرنی ہیں تو ساری عمر کی نمازیں بھی خالی ہونگی، خالی برتن ہوں گئے ایسے برتن کہ جب آپ یہ خدا کے حضور پیش کریں گے اور کہیں گے التَّحِيَاتُ لِلهِ وَالصَّلَواتُ وَالطَّيِّبَات تو خالی التحیات کے کھو کھلے برتن ہوں گے جن میں نہ الصلوات ہونگی نہ الطیبات ہوں گی۔یہ ایک تمسخر ہے۔اپنے ساتھ بھی دھوکہ ہے اور خدا سے بھی دھوکہ کرنے کی کوشش ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا بنائے کہ ہماری عبادات کو اپنے ذکر سے بھر دے اور ایسے ذکر سے بھر دے کہ جس سے ہماری زندگیاں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہمیشہ معطر رہیں۔ہمارے وجود خدا کی ذات سے لذت پانے والے ہوں، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اور خدا کی ذات کے رنگ اور اس کی صفات ہماری ذات میں جاری ہونے والی ہوں۔یہ وہ نماز ہے جو بالآخر انسان کو خدا نما بنا دیتی ہے۔یہ وہ نماز ہے جس کے بعد انسان جتنی دفعہ بھی نماز میں جاتا ہے ہر دفعہ کوئی نیا موتی لیکر لکھتا ہے۔نیا گو ہر لیکر واپس لوٹتا ہے۔کبھی انسان ایسی نمازوں سے خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹا اور جتنا ترقی کرتا ہے انتا ہی خدا کے رنگ اس پر پہلے سے بڑھ کر چڑھتے چلے جاتے ہیں۔اتنا ہی زیادہ اس میں