ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 47
47 اولاد کی صورت میں اپنے ماں باپ کی صورت میں اپنے دوستوں کی صورت میں اپنے معلمین کی صورت میں ہر طرف سے آپ کو ربوبیت کے نظارے مختلف شکلوں میں دکھائی دینے لگیں گے اور جس دن کی جو نماز ہے اس دن جو خاص ربوبیت کا اثر ول پر پڑنے والی بات ہے وہ نمایاں طور پر اپنے ذہن میں آپ حاضر کر سکتے ہیں اور روز مرہ کے بدلتے ہوئے تجارب کے ساتھ ساتھ ربوبیت کے مختلف تھے آپ کے ذہن میں ابھر سکتے ہیں اور جب آپ رحمانیت میں داخل ہوں تو آپ کے حواس خمسہ نے اس دن آپ کو جو بھی لذت پہنچائی ہے وہ لذت حمد میں تبدیل ہو جائے گی۔آپ اس وقت نماز پڑھتے ہوئے یہ سوچ سکتے ہیں کہ الحمد للهِ رَتِ الْعَلَمِينَ۔الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ایسا عجیب ہے میرا رب کہ ساری کائنات کا نظام اس نے سنبھالا ہوا ہے۔تمام کائنات کی ربوبیت فرما رہا ہے اور کسی کے حال سے کسی کی ضرورتوں سے غافل نہیں ہے لیکن ضرور تھیں ایسی پوری کرتا ہے کہ ضرورت پورا کرتے وقت ضرورت سے زیادہ یعنی کم سے کم ضرورت سے زیادہ لذتیں عطا کر دیتا ہے۔پس اگرچہ رحمانیت کا مضمون یہیں ختم نہیں ہو تا بلکہ اسے آغازہ کہنا بھی درست نہیں ہو گا کیونکہ رحمانیت کے ذکر میں یہ بات ایک بہت ہی معمولی حیثیت رکھتی ہے۔لیکن سوچ کا ایک طریقہ ہے جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ اس طرح آپ سورۂ فاتحہ پر غور کرنا شروع کریں اور پھر رحمانیت پر غور کر کے رحیمیت پر آئیں اور وہاں جا کر دیکھیں کہ اور باتوں کے علاوہ رحیمیت میں بار بار دینے کا مفہوم ہے اور اس رنگ میں بار بار دینے کا مفہوم ہے کہ محنت ضائع نہ جائے بلکہ زیادہ ہو کر واپس ملے تو ساری کائنات میں رحیمیت پھیلی ہوئی دکھائی دینے لگے گی۔ایک پہلو سے جب آپ خدا کو دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ ساری باقی صفات غائب ہو گئی ہیں وہی اصل صفت تھی لیکن ربوبیت سے جب رحمانیت میں داخل ہوتے ہیں تو ہر طرف رحمان خدا کا نظارہ دکھائی دینے لگتا ہے۔رحمانیت سے جب رحیمیت میں جاتے ہیں تو یہ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جہاں رحیمیت کار فرما نہ ہو۔انسانی جسم کے تمام اجزاء میں اور انسان کے تمام ارکان میں اس کے اعضاء میں ہر چیز جس سے انسان بنا ہوا ہے انسان رحیمیت کے سبق پڑھ