ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 46
46 ہوں تھا۔بعض جانور اس حد تک وہ قوت رکھتے ہیں جو شامہ کہلاتی ہے۔یعنی سو لکھنے کی قوت کہ وہ اپنی ضرورت کی چیز کو پہچان لیں اور جو چیز ان کے لئے مضر ہو سکتی ہے اس کو پہچان کر اس سے دور ہٹ سکیں۔یہ ہے بنیادی ضرورت جسے میں محض ضرورت کہتا لیکن ہر جانور کو خدا تعالیٰ نے کچھ نہ کچھ لذت بھی عطا کر دی ہے جو انسان تک پہنچتے پہنچتے درجہ کمال تک پہنچ جاتی ہے۔نظر کی محض ضرورت یہ ہے کہ آپ رستہ دیکھ سکیں۔چیزوں کو نہ صرف دیکھ سکیں بلکہ جہاں تک ممکن ہو اس کے فاصلے دیکھ سکیں۔چیزوں کو اس حد تک پہچان سکیں کہ کون سی آپ کے لئے مفید ہیں اور کون سی مضر ہیں۔کہاں ٹھو کر ہے کہاں صاف رستہ ہے۔غرضیکہ محض ضرورت کی زندگی کی بہت کی روز مرہ کی ایسی حالتیں ہیں جنہیں نظر پورا کرتی ہے لیکن نظر کے ساتھ لذت رکھ دی اور اس لذت کو ایسی طاقت بخشی ہے کہ انسان حسن کی تلاش میں زندگی بسر کر دیتا ہے۔شعراء نظر سے تعلق رکھنے والی لذت کا اپنے کلام میں ذکر کرتے ہیں۔ساری زندگی اس بات پر صرف کر دیتے ہیں کہ ہم نے حسن کو اس طرح جلوہ گر دیکھا، اس طرح جلوہ گر دیکھا۔کھانے کی لذت سے ہر انسان آشنا ہے اور اگر محض ایسا کھانا ملے جو اس کی ضروریات پوری کرتا ہو لیکن لذتیں زیادہ مہیا نہ کر سکے تو انسان بیزار ہو جاتا ہے۔بعض گھروں میں اس وجہ سے میاں بیوی کی لڑائیاں طلاق تک پہنچ جاتی ہیں کہ بیوی کو کھانا نہیں اچھا پکانا آتا۔ہر روز کی بک جھک بک جھک ہوتے ہوتے بالاخر نفرتیں پیدا ہو جاتی ہے اور خاوند کہتا رہتا ہے کہ تو تو ہے ہی بے سلیقہ تیرے ہاتھ میں تو مزا ہی کوئی نہیں حالانکہ جہاں تک جسم کی ضرورت کا تعلق ہے وہ تو اسے کیا ہو رہی تھی۔اسی طرح آپ اپنے دیگر حواس پر غور کریں تو کم سے کم ضرورت بہت تھوڑی تھی۔اس سے بہت زیادہ عطا کیا گیا ہے اور اس عطا کرنے کی صفت کا نام جو ضرورت حقہ سے زیادہ ہو رحمانیت ہے۔رحمانیت اور رحیمیت کے جلوؤں پر غور کریں پس جب آپ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعلمین کہتے ہیں اور ربوبیت کے نظارے اپنے ذہن میں تصویر کی طرح گھماتے ہیں تو اپنے گردو پیش اپنی ذات میں اپنی