ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 1
بیت الفضل - لندن ۳۰ ار تو مہر 1990 ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ عبادت میں مزا پیدا کرنے کا سوال تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : بہت سے دوست مختلف ممالک سے جو خطوط لکھتے ہیں ان میں بارہا اس سوال کا اعادہ کیا جاتا ہے یعنی تکرار سے بار بار مختلف دوستوں کی طرف سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ عبادت میں مزا پیدا کرنے کی کیا ترکیب ہے؟ بعض لوگ علمی پیاس بجھانے کی خاطر بغیر کسی بیجان کے لکھتے ہیں اور بعض معلوم ہوتا ہے شدید اعصابی دباؤ کا شکار ہیں ، بہت کوشش کرتے ہیں ، بہت زور مارتے ہیں لیکن عبادت میں مزا نہیں آتا۔بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو عبادت کے بیرونی دروازے تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں اور عبادت کو چھوڑ کر جانے کا قصد کر چکے ہوتے ہیں اور وہ گویا مجھے آخری تنبیہ کر رہے ہوتے ہیں کہ ابھی بھی ہمیں سمجھا لو اور بچا لو ورنہ پھر اگر ہم نے عبادت سے منہ موڑ لیا تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔مختلف دوستوں کو میں مختصراً مختلف جواب دیتا ہوں لیکن یہ مضمون اتنا اہم ہے کہ باوجود اس کے کہ اس سے پہلے بھی اس پر روشنی ڈال چکا ہوں مگر میں سمجھتا ہوں کہ مختلف پہلوؤں سے مختلف زاویوں سے بار بار اس مضمون کو جماعت کے سامنے کھولنا - آج کے خطبے میں میں سورۃ فاتحہ کے نقطہ نگاہ سے اس پر روشنی ڈالوں گا۔سورۃ فاتحہ میں در حقیقت تمام سوالات کا حل ہے اور کوئی بھی ایسی مشکل نہیں جسے یہ کشا نہ کر دے اس لئے اس کا نام فاتحہ رکھا گیا یعنی ہر چیز کو کھولنے والی چابی۔اگر آپ اس