ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 491 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 491

491 کے جو معنی ہیں وہ مقابلہ " بڑائی کے معنی ہیں اور اکبر کا مضمون عظیم سے مختلف ہے۔عظیم اپنی ذات میں ایک ہیبت اور ایک جلوہ رکھتا ہے۔ہیت کا ایسا جلوہ جو قریب سے دکھائی دے۔جب بھی آپ کسی کو عظیم سمجھتے ہیں اس کو عظیم سمجھنے کیلئے ایک تو دور کا نظارہ ہے وہ کانوں کے ذریعے آپ کو بتایا جاتا ہے یا دور سے آنکھوں کے ذریعے دکھایا جاتا ہے کہ فلاں چیز عظیم ہے لیکن اس کی عظمت کا احساس اس کے قریب آئے بغیر نہیں ہوا کرتا۔جب تک آپ کسی پہاڑ کے دامن میں نہ پہنچیں آپ کو یہ علم نہیں ہو سکتا کہ پہاڑ کن معنوں میں عظیم ہے۔ہمالہ کی باتیں ہم نے بھی سن رکھی تھیں مگر جب ہم ہمالہ کی طرف روانہ ہوئے اور ہمالہ کے دامن میں پہنچے اور بلند و بالا چوٹیوں کا قریب سے مشاہدہ کیا تب ہمیں معلوم ہوا کہ پہاڑ کی عظمت کیا ہوا کرتی ہے۔اسی طرح وہ انسان جو عظیم کہلاتے ہیں دور کے نظارے میں وہ عظیم مانے تو جاتے ہیں لیکن انکی عظمت کا احساس نہیں ہوا کرتا۔عظمت کا احساس ہمیشہ قرب سے ہوا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عظمت در حقیقت ان لوگوں پر روشن ہوئی جو آپ کے قریب تھے اور وہ جو دور کے زمانوں میں پیدا ہوئے ان پر بھی آپ کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے روحانی قرب کا نظام جاری فرمایا گیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی آپ کو قریب سے دیکھا اور یہی وجہ ہے کہ آپ کے قرب کی وجہ سے ہمیں بھی قرب نصیب ہوا اور ہم نے بھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عظمتوں کا قریب سے نظارہ کیا۔میں مضمون ہے جس کو سورۂ جمعہ میں یوں بیان فرمایا گیا۔وأخرينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی قربت عطا کی جائے گی۔زمانے کے لحاظ سے وہ دور ہیں لیکن خدا کی تقدیر کے تابع قریب کئے جائیں وہ گے۔وہ آخرین میں پیدا ہونے والے اولین سے ملا دئیے جائیں گے۔پس یہاں بھی عظمت کا مضمون ہے۔جب تک کسی کی عظمت اس کے قرب سے ظاہر نہ ہو اس وقت تک اس عظمت کے نتیجے میں عظمت کے احساس کے نتیجے میں انسان کے اندر تبدیلیاں پیدا نہیں ہوا کرتیں۔پس سُبحان ربی العظیم کا مضمون مجھنے کے بعد انسان ہیں