ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 483
483 مخضوب علیم کی دعاؤں پر جب آپ غور کرتے ہیں تو بہت سے نیک لوگوں کی دعاؤں کی حکمتیں بھی سمجھ آنے لگ جاتی ہیں۔اسی لئے یہ مضمون ضروری ہے اور اس لئے میں آپ کے سامنے اسے کھول کر رکھنا چاہتا ہوں۔جو مغضوب لوگوں کی دعائیں ہیں یا سنج لوگوں کی دعائیں ہیں وہ جب نیکی کی دعائیں بھی کرتے ہیں تو ان کے اندر ایک کبھی ہوتی ہے اور اس کچھی کی وجہ سے وہ دعائیں رو ہو جاتی ہیں اور غیروں کے لئے خواہ کبھی نہ بھی ہو چونکہ اپنے لئے کبھی ہوتی ہے اس لئے دوسروں کے لئے دعاؤں میں بھی کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔خدا کے نشانوں کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لینے کی سزا قیامت کے دن ایک سوال ہے پوری دعا نہیں بنتی اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جب کسی کو اندھا بنا کر اٹھائے گا یعنی دوسری دنیا میں نور سے عاری کر دے گا۔بصیرت سے عاری فرما دے گا تو وہ یہ کہے گا۔قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَى وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا سور حملہ : ۱۲۶) کہ اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھا دیا۔میں تو دنیا میں دیکھا کرتا تھا۔قال تحذيك الفك ابْتَنَا فَنَسِيتَها اللہ فرمائے گا کہ اس لئے یعنی دلیل یہ ہے کہ تیرے پاس میرے نشانات آیا کرتے تھے یا آتے رہے اور تو نے انہیں نظر انداز کر دیا۔نسيتقا کا معنی یہاں بھلا دیتا " ان معنوں میں نہیں کہ ایک چیز یاد تھی اور بھلا دی گئی۔نسنتها کا معنی ہے : انہیں اس طرح نظر انداز کر دیا کہ گویا وہ بھول چکے تھے۔ان کو فراموش کر دیا۔ان کی طرف توجہ ہی نہیں کی۔وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسى (سورة طه : ۱۳۷) اور آج تجھے اسی طرح بھلا دیا جائے گا۔دیکھتے ہوئے نہ دیکھنے کا مضمون ہے جو بیان ہوا ہے۔فنسنتا مطلب یہ نہیں ہے کہ تو نے کوئی یاد چیز کو بھلا دیا بلکہ مراد یہ ہے کہ تیرے سامنے تھی اور تو نے دیکھا ہی نہیں۔نظر انداز کر دیا تو جو چیز اپنی مرضی سے تو نے نہیں دیکھی آج تجھے نظر ہی نہیں آئے گی۔اور آج تو بھی اسی طرح خدا کے سامنے بھلا دیا جائے گا اور تیری ضرورتوں کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔یہ بہت ہی درد ناک سزا ہے اور یہ سزا ہم دنیا میں اپنے لئے بناتے چلے جاتے ہیں۔جب خدا کی طرف سے کوئی بات ظاہر ہو جائے اسے کا