ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 482
482 لیا لیکن نیکی کی دعا مانگنا سب سے مشکل دعا ہے کیونکہ وہ بہاؤ کے خلاف دعا ہے۔انسانی فطرت گناہوں کی پیروی کرتی ہے، اس کی طرف دھکیل کر لے جانا چاہتی ہے۔طبیعت کا طبیعی بہاؤ مزے کی طرف ہے لذتوں کی طرف ہے، آرام طلبی کی طرف ہے۔بہاؤ کے خلاف دعا کرنا سب سے زیادہ مشکل دعا ہے۔واقعہ نیکی کی دعا مانگتے ہوئے ہر انسان اگر اپنے نفس کو کرید کر دیکھے اور یہ غور کرے کہ واقعہ وہ خدا سے ان سب چیزوں سے بچنے کی دعا مانگ رہا ہے تب اس کو پتہ چلے گا کہ وہ دعا کچھ نیم جان کی دعا تھی۔انسان کہتا ہے کہ مجھے نیکی عطا کر لیکن ساتھ ڈرتا بھی ہے اور پوری طرح نیت بھی نہیں رکھتا۔ایک شخص مثلا رزق حلال کی دعا مانگتا ہے اب اس کے لئے روزانہ رزق حرام کئی طرح سے بہت خوبصورت بن کر ظاہر ہوتا ہے اگر ان سب امکانات کو پیش نظر رکھے اور پھر یہ دعا کرے کہ اے خدا مجھے رزق حلال عطا کر تب اس کو سمجھ آئے گی کہ مخلص دعا ہوتی کیا ہے۔وہ دعا مخلص نہیں ہوگی جبتک کہ وہ پہلے رزق حرام کے سارے دروازے اپنے اوپر بند نہیں کر لیتا اور خدا سے یہ کہہ نہیں دیتا کہ میں نے کر دیتے ہیں اب میں التجا کرتا ہوں کہ وقت کے اوپر آکر ٹھو کر نہ کھا جاؤں۔اس وقت تک یہ دعا مخلص نہیں ہو سکتی تو مخلص دعا یعنی نیکیوں کے معاملے میں مخلص دعا سب سے مشکل دعا ہے۔اپنے بچوں کے لئے آپ کر سکتے ہیں۔اپنے مرے ہوئے بزرگوں کے لئے کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی خاطر آپ کو اپنے اندر تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔آسانی سے کر سکتے ہیں۔مائیں بچوں کو جتنی مرضی دعائیں دے لیں۔اے خدا! ان کو نیک بنا۔سب ٹھیک ہے لیکن اپنے لئے نیکی مانگیں اپنی کمیاں درست کرنے کی دعائیں مانگیں اور بہت سی ایسی دعائیں مانگیں تب ان کو سمجھ آئے گی کہ بچوں کے لئے تو پوپہلے منہ سے آسانی سے دعائیں کرلیں۔مرے ہوئے بزرگوں کے لئے بھی کر لیں لیکن وہ دعائیں بھی تب زیادہ مقبول ہوں گی اگر اپنے لئے بھی اسی جان کے ساتھ دعائیں کی جائیں۔اس لئے اپنے لئے دعائیں یہ بھی فیصلہ کر دیتی ہیں کہ مستقبل کے لئے مقبول ہوں گی یا نہیں اور ماضی کے لئے مقبول ہوں گی یا نہیں۔انبیاء کی نیکیوں کی دعائیں کیوں ان کی اولاد کے حق میں مانی جاتی ہیں۔عام انسان کے لئے کیوں نہیں مانی جاتیں۔یہ بھی تو ایک مسئلہ ہے۔پس،