ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 464
464 متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی بھی دعائیں قبول کر لیا کرتے ہیں۔پس یہاں یہ مضمون سمجھانے کی خاطر میں یہ دعا آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ ایسی دعا جو مصیبت کے وقت کی جائے بعد دفعہ وہ اس شدت کے ساتھ دل سے اٹھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر گواہی دیتا ہے کہ دین کے خلوص کے ساتھ وہ دعا کی گئی تھی۔واقعہ ”دل کی کیفیت یہی ہوتی ہے۔اور چونکہ وہ کیفیت ایسی ہے جس کو خداتعالی رد نہیں فرمایا کرتا۔اس لئے اس علم کے باوجود کہ یہ کیفیت بدل جائے گی اس وقتی کیفیت پر احسان فرماتے ہوئے اس دعا کو قبول کر لیتا ہے۔پس بعض لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بد بھی ہیں تب بھی ہماری دعائیں تو قبول ہو ہی جاتی ہیں۔ان کو دھوکے میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔اللہ تعالیٰ انتار حم فرمانے والا ہے کہ جب ایک انسان ایک اضطرار کی حالت میں دعا کرتا ہے مضمون اور وقتی طور پر مخلص ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کو رد نہیں کر سکتی۔یہ آپ نے اپنی روز مرہ کی زندگی میں بھی دیکھا ہوگا۔بعض لوگ بار بار شرارت کرتے ہیں۔لیکن جب پکڑے جائیں تو واقعی ایسی عاجزی کی کیفیت اختیار کر لیتے ہیں۔ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں وہ تھر تھر کانپتے ہیں پاؤں کو جھک جھک کر ہاتھ لگاتے ہیں کہ خدا کے لئے معاف کر دو آئندہ ہم نہیں ایسا کریں گے۔اگر پتہ بھی ہو آپ کو کہ آئندہ پھر بھی کریں گے وہ عاجزی اور انکساری کی کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ ایک شریف انسان اس کو رد نہیں کر سکتا۔پس اگر ایک عام انسان بھی اس الحاج سے متاثر ہو جاتا ہے اس عاجزی سے متاثر ہو جاتا ہے تو خدا تو بہت زیادہ غفور الرحیم ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ کو علم نہیں۔خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ پھر یہی حرکتیں کریں گے۔لیکن ساتھ ہی بیان فرما دیا کہ آخر ہمارے پاس آتا ہے۔ہمیں پتہ ہے کہ بھاگ کے تو کہیں جائیں گے نہیں۔چونکہ انجام بالآخر میرے پاس ہوتا ہے اس لئے مجھے اس سے فرق ہی کوئی نہیں پڑتا چاہئے میں دس دفعہ معاف کروں۔ہزار دفعہ معاف کروں۔چونکہ مجھ تک پہنچنے والے ہیں اس لئے آخری فیصلہ میں قیامت کے دن کروں گا۔جب سب کے اعمال میرے حضور پیش کئے جائیں گے۔چونکہ وقت زیادہ ہو رہا ہے اس لئے ایک دعا کے ذکر کے بعد میں آج کا خطبہ نیبو کر دوں گا۔