ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 38
38 ہیں جب بصیرت نصیب ہو تو وہاں بھی روشنیاں جلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔پس ذکر الہی کے مضمون کو سمجھیں اور یہی حمد ہے۔غور کے بعد جب حمد کے ذریعے آپ خدا تعالیٰ سے محبت اور تعلق پیدا کریں گے تو پھر جب نمازوں میں حمد کا لفظ آئے گا اور حمد کے ساتھ وابستہ صفات الہی نظر آئیں گی تو ان میں آپکو نئے نئے نور دکھائی دئے جائیں گے۔نئی نئی روشنیاں نظر آنے لگیں گی۔نئے حمد کے ترانے گاتے ہوئے لفظ دکھائی دیں گے اور آپ کی روح بے شمار لذتوں میں ڈوب جائے گی لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ ہر نماز میں کلیتہ " تمام تر نظارے ایک ہی دفعہ آپ کو دکھائی دیں گے۔رفتہ رفتہ تھوڑی تھوڑی حسب توفیق عادت ڈالنی پڑے گی۔ہر دفعہ جب نماز پڑھیں تو کچھ تو سوچیں خدا کی حمد کی بات جو آپ کے دل پر اس کیفیت کے وقت زیادہ اثر انداز ہو رہی ہو اور چاہے آدھا منٹ ٹھہریں۔چاہے ایک منٹ ٹھریں۔اس مضمون کو حمد کے ایسے حقیقی مضمون سے باندھ کر آگے چلیں جو آپ نے محسوس کیا ہو۔محض زبان سے ادا نہ کیا جا رہا ہو۔میں جب الْحَمْدُ یا رَب العلمین کہتے ہیں تو جتنے نظارے میں نے آپ کو بتائے ہیں یہ ربوبیت ہی کے تو نظارے ہیں۔تمام جہانوں کا رب ہے اور کیسی کیسی صنعتیں اس نے قائم کر رکھی ہیں اور ان کا عشر عشیر بھی ابھی ہمیں پتہ نہیں چلا بلکہ ہزارواں لاکھوں کروڑواں حصہ بھی ہم پر ابھی روشن نہیں ہوا لیکن جو کچھ بھی ہم نے دیکھا وہ حیرت انگیز پایا۔اس طرح آپ کا علم بڑھتا ہے تو خدا کی حمد بڑھتی چلتی جاتی ہے اس کا شعور بڑھتا چلا جاتا ہے پھر اپنے نفس پر اپنے دل پر غور کریں، اپنی زندگی پر غور کریں روز مرہ کے تجارب پر غور کریں، خدا تعالیٰ کے احسانات پر غور کریں تو جتنا جتنا آپ غور کریں گے اتنا اتنا آپ کی نمازیں لذتوں سے بھرنی شروع ہو جائیں گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ایسے عجیب مضامین ہیں کہ جن کا سمجھانا بھی مشکل ہے لیکن یہ میں یقین دلاتا ہوں کہ ایک ہی علاج ہے اور صرف ایک ہی کہ ريات بعيدة ياك نستعين کا دروازہ کھول کر ذکر الہی میں داخل ہوں۔اِيَّاكَ تعدد ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں یا تیری ہی عبادت کریں گے مگر کس طرح؟