ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 387 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 387

387 آقاب اتنا زمانہ بنتا ہے۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی اللہ وسلم کے بعد ٣ مجدد گزرے تھے اسی طرح حضرت موسی کی امت پر حضرت عیسیٰ سے پہلے ۱۳ مجددین گزر چکے تھے۔بہر حال یہ قوم کا ایک حصہ اس زمانے میں بکھرا تھا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حضرت سلیمان نے خود اپنے بچوں کے لئے اور اپنی قوم کے لئے بد دعا کی تھی۔اس کے متعلق قرآن کریم اشارہ کر رہا ہے۔اس سے پہلی آیت میں کہ اصل واقعہ کیا تھا۔پہلی آیت یہ ہے کہ وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَنَ وَالْقَيْنَا عَلَ كُرَيهِ جَسَدًا تُقَ (ص : ۳۵) کہ ہم نے سلیمان کو آزمائش میں ڈالا ، فتنے میں ڈالا۔والقَيْنَا عَلی گریته جسدا اور اس کے تخت پر ایک لاشے کو لا بیٹھایا۔تواناب اس کے نتیجہ میں وہ بار بار خدا کے حضور جھکا اور مغفرت مانگی اور توبہ کی۔بہت ہی افسوسناک بات یہ ہے کہ بہت سے غیر احمدی مفسرین اس کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان سے گناہ سرزد ہوا اور آپ نے اپنے بستر پر ایک عورت ڈال دی۔نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ بہت ہی جاہلانہ تفسیریں ہیں۔یہ تفسیریں دیکھ کر تو بار بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں کہ کس طرح ہمیں اندھیروں سے روشنی میں نکالا ہے۔اور اگر یہ بات تھی تو اچانک اس کے بعد اپنی قوم پر بد دعا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اگر نعوذ یا اللہ من ذلک کوئی گناہ ہی سرزد ہوا تھا تو اس گناہ کا بدلہ اپنی قوم کو اپنے بچوں کو دینا تھا کہ یہ دعا کرتے کہ اچھا چونکہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے اس لئے میری اولاد اور میری نسلوں کو اس کی سزائیں دے اور سارے بنی اسرائیل کو اس کی سزادے اور میرے بعد یہ ملک تباہ کر دے۔ہرگز یہ بات نہیں ہے۔آپ کو جب خدا نے خبر دے دی کہ تیری اولاد اس لائق نہیں ہے کہ وہ تیری تخت نشین ہو۔نالائق اولاد آنے والی ہے تو اس وقت آپ نے یہ کہا کہ اے خدا میں تو نبی ہوں اور نبوت کے ساتھ ملوکیت کرتا رہا ہوں اور پورے انصاف اور تقویٰ کے ساتھ حکومت کے حقوق ادا کرتا رہا ہوں۔اگر ایک نالائق کے سپرد یہ ساری قومیں کر دی گئیں تو وہ تو بہت