ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 366 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 366

355 اولاد کی دولت سے بڑھ کر دنیا کی اور کوئی دولت نہیں ہے۔اگر اولاد ہاتھ سے نکل جائے تو گویا ساری عمر کی کمائی ہاتھ سے گئی۔پس اس کا فکر کریں اور اس ضمن میں آپ کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ اگر آپ باقاعدگی کے ساتھ خطبات کو خود بھی سنیں اور اپنے بچوں کو بھی سمجھائیں تو چونکہ ان میں قرآن کریم کا ذکر چلتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اخلاق حسنہ کا ذکر چلتا ہے اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے کلام سے نصیحتیں پیش کی جاتی ہیں اس لئے تربیت کا ایک بہت ہی اچھا ذریعہ نہیں اور آپ کی نئی نسل کو قرآن اور دین اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے ان خطبات کے وسیلے سے انشاء اللہ ایک گہرا ذاتی تعلق پیدا ہو جائے گا اور جب خدا سے تعلق پیدا ہو جائے تو پھر دنیا والے اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔کیسا ہی گندا معاشرہ ہو لیکن جس کا اللہ سے تعلق ہو جائے وہ محفوظ ہو جاتا ہے۔پس اس سے فائدہ اٹھائیں اور آج خدا نے آپ کو توفیق بخشی ہے کہ سرینام کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کسی بندے کا خلیفه براه راست آج آپ سے جمعہ کے دن مخاطب ہے اور یہ جو تاریخی واقعہ ہے یہ ایک ہی دفعہ ہوتا تھا اور ایک ہی دفعہ ہو چکا۔اب یہ دہرایا نہیں جا سکتاک خلفاء انشاء اللہ آئندہ بھی آئیں گے۔تقریریں بھی کریں گے۔خطبے بھی دیں گے پہلی دفعہ پہلی دفعہ ہی رہتی ہے۔دہرانے سے وہ دوسری پہلی مرتبہ تو نہیں ہو سکتی۔تو آپ خوش نصیب ہیں کہ اس تاریخی موقعہ کے گواہ بن گئے ہیں۔اس کا شکر ادا کرنا بھی تو ضروری ہے۔پس حضرت سلیمان کی طرح خدا سے دعا مانگیں اور اس بات کا شکر آپ اس طرح ادا کر سکتے ہیں کہ اپنی اولاد کو خطبات سنانے کا انتظام کریں اور انہی الفاظ میں سنائیں۔خلاصوں پر راضی نہ ہوں۔عام طور پر یہ رواج مریوں، مبلغوں میں دیکھا جاتا ہے کہ محنت سے جی چراتے ہوئے بجائے اس کے کہ وہ سارے خطبہ کا ترجمہ کر کے پیش کریں، اپنی طرف سے وہ اپنے کام کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں اور اردو میں ایک محاورہ ہے ”ٹر فانا" تو وہ سمجھتے ہیں کہ اس۔