ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 349
349 بیت ناصر سرینام ۳۱ار مئی 1991ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ موجودہ سلسلہ خطبات کا پس منظر تشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور انور نے فرمایا گزشتہ چند جمعوں سے قرآن کریم میں مذکور دعاؤں کا بیان چل رہا ہے اور میں جماعت کو اس طرف متوجہ کر رہا ہوں کہ سورۂ فاتحہ میں جب ہم یہ دعا مانگتے ہیں کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عليهم ولا الضالین تو وہ رستہ جو نیک لوگوں کا رستہ ہے، وہ رستہ جس پر وہ لوگ چلے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا اس رستے کی مشکلات پر قابو پانے کے لئے اس رستے کے خطرات سے بچنے کے لئے اور اس رستے پر چلتے ہوئے خدا کی رضا پانے کے لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ وہ دعائیں زندگی بھر مانگتے رہیں جو دعائیں خدا کے وہ پاک بندے مانگا کرتے تھے جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ انعام یافتہ لوگ تھے۔اللہ نے ان پر انعام فرمائے تھے تو جن کا رستہ مانگا ہے ان کی ادائیں بھی تو لینی پڑیں گی ان کے طریق بھی تو اختیار کرنے پڑیں گے۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہم رستہ انعام والوں کا مانگیں اور ادائیں مغضوب علیہ کی اختیار کرلیں۔اس لئے سب سے اہم بات جو منعم علیہ گروہ یعنی انعام یافتہ لوگوں کی ہمیں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی زندگی کا ہر لمحہ دعا کے سہارے گزرتا تھا۔ہر مشکل کے وقت ہر آسانی کے وقت ہر خوشی اور ہر غم میں وہ خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔یہ سفر جو میں نے اللہ اختیار کیا، اس سفر سے پہلے میں نے بھی وہ دعائیں کیں جو سفر کے موقعہ کے مناسب حال قرآن کریم میں مذکور ہیں۔آج میں آپ سے سرینام کے