ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 344 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 344

344 سورۃ الشعراء آیت ۱ تا ۱۸ تھی اب سورۃ الشعراء کی آیت ۱۷۰ میں حضرت لوظ کی یہ دعا بیان ہوتی ہے۔رَبِّ نَجْري واهني ممَّا يَعْمَلُونَ اے میرے رب مجھے اور میرے اہل کو نجات بخش ان باتوں سے جو میری قوم کرتی ہے۔یہاں جسمانی نجات کی دعا نہیں ہے جو اس کے ذیل میں آئی تھی۔اصل میں ایک ایسے گناہ سے نجات کی دعا ہے جو ساری قوم میں وبا کی طرح پھیل چکا تھا اور ساری قوم میں سرائیت کر گیا تھا۔ایسے موقعہ پر دعا کے بغیر انسان صحیح معنوں میں ایسی قومی بدیوں سے بچ نہیں سکتا۔پس جب مثلاً انگلستان میں رہنے والے یہ دیکھتے ہیں کہ بعض بدیاں یہاں پھیلی ہوئی ہیں۔امریکہ میں رہنے والے دیکھتے ہیں کہ بعض بدیاں وہاں پھیلی ہوئی ہیں تو ان کے لئے بھی یہ دعا کرنی چاہئیے۔ورنہ یہ بدیاں اس طرح فضا میں سرائیت کر چکی ہوتی ہیں کہ ہر سانس میں انسان ان کو لے رہا ہوتا ہے۔ٹیلی ویژن آن کرے۔ریڈیو آن کرے۔بازاروں میں چلے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان بدیوں سے کلیتہ " بیچ کر نکل سکے۔پس یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ نجات صرف ظاہری نجات کی دعا نہیں ہوتی بلکہ بدیوں سے روحانی نجات بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔اور جو روحانی نجات حاصل کرتا ہے اس کے لئے بدنی نجات خود بخود عطا ہو جاتی ہے۔پس حضرت لوط اگر صرف بدنی نجات مانگتے تو اس کے اندر روحانی نجات شامل نہیں تھی مگر جب روحانی نجات مانگی تو اس میں بدنی نجات شامل ہو گئی۔امریکن یونیورسٹیوں کی حالت زار پس وہ لوگ جو مثلاً امریکہ میں رہتے ہیں۔مجھے ایک طالب علم کی والدہ کا خط ملا۔انہوں نے یہ لکھا کہ میرے دو بچے ہیں ان میں سے ایک نے جو فلاں یونیورسٹی میں امریکہ میں پڑھتا ہے مجھے لکھا ہے کہ یہاں طالب علموں کی بھاری اکثریت نشہ کرتی ہے اور یونیورسٹی میں یہ فیشن ہے اور اس کے علاوہ دوسری بدیوں کا ذکر تھا کہ یہ بھی کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہم میں رہنے کا حق نہیں رکھتے۔یہ ہم سے الگ ایک مخلوق ہے اور پوری کوشش کی جاتی ہے کہ وہ تیں ان کو بھی ڈال دیں۔تو اس نے اپنی والدہ کو دعا کے لئے لکھا تھا کہ دعا کے ذریعہ میری مدد کریں ورنہ یہ بڑا مشکل