ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 343 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 343

343 تستمعون میں تمہارے ساتھ سننے والا ہوں۔اس آیت سے اور اس دعا کے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ ساتھ ہی حضرت موسیٰ کو کچھ قبولیت کی خوشخبری بھی دے دی گئی تھی۔کیونکہ تشنیہ سے خطاب معا جمع میں تبدیل ہو جاتا ہے۔فرمایا تم دونوں جاؤ ہمارے نشان لیکر - إِنَّا مَعَكُمْ مُسْتَمِعُونَ میں تمہارے ساتھ کھڑا تمہاری التجاؤن کو سن رہا ہوں گا۔پس وہ جو ساحروں کی دعا تھی اس کے سننے کی خوشخبری بھی اس آیت میں پہلے کلام میں حضرت موسیٰ کو دے دی گئی تھی کہ تم ڈرتے کس بات سے ہو تم پڑھو گے۔ایک سے دو میں نے تمہیں بنایا ہے۔تم دو بھی نہیں رہو گے۔دو سے تین چار ایک قوم بنتے چلے جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کھڑا تمہاری التجاؤں کو سن رہا ہو گا۔وہ کون ہو سکتا ہے جو تم پر ہاتھ ڈالے۔فَاتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُولا انا رسُول رب العلمین اور فرعون کے پاس جاؤ اور دونوں اس سے یہ کہو کہ ہم خدا کے رسول ہیں۔خدا کے ایلچی ہیں۔یہاں جمع کا صیغہ استعمال نہیں فرمایا بلکہ واحد کا صیغہ استعمال فرمایا ہے۔رسول نہیں فرمایا بلکہ رسول آب العلمين یعنی ان دو میں کوئی فرق نہیں تھا کہ دو الگ الگ رسول ہوں۔ایک ہی مشن پر ان دونوں کو فائز فرمایا گیا تھا۔اور اپنی مجموعی حیثیت میں وہ ایک ہی رسول کے مقام پر فائز تھے۔اب سوال یہ ہے کہ یہ دعا ہم عام حالات میں کیسے مانگیں گے۔کسی کو خدا ایسے مقام پر فائز کرے یا ایسے حالات ہوں تو پھر یہ دعا اس سے مانگی جائے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان دعاؤں کے اندر بعض مخفی التجا کی کیفیات ہیں جو ایک عاجز بندے کے کام آجاتی ہیں جب وہ موسیٰ کے رنگ میں ڈوب کر یا کسی اور گزشتہ نبی کی دعا کو یاد کرتے ہوئے اس کے رنگ میں ڈوب کر یہ دعائیں کرتا ہے۔اپنے بجز اور بے بسی کی کیفیت کے لئے ایسی حالت میں جب کسی سے کوئی گناہ کسی کا سرزد ہو گیا ہو کسی سے خوف کھاتا ہو تو حضرت موسیٰ کی یہ دعا حضرت موسیٰ کے رنگ میں ڈوب کر اگر کی جائے تو اللہ تعالٰی کے فضل کے ساتھ انسان کی دوسری ضروریات میں بھی کام آسکتی ہے۔قومی بدیوں سے نجات کی دعا حضرت لوط کی ایک دعا بیان فرمائی گئی ہے سورۃ الشعراء میں (یہ جو دعا تھی یہ بھی