ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 258 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 258

258 رب ان دونوں پر میرے والد اور میری والدہ پر اس طرح رحم فرما جس طرح بچپن سے یہ میری تربیت کرتے چلے آئے ہیں۔لیکن اس دعا کی گہرائی کو سمجھنے کے لئے اس کا وہ پس منظر جاننا ضروری ہے جو یہی آیت کریمہ ہمارے سامنے کھول کر رکھ رہی ہے۔پس پوری آیت کو پڑھنے کے بعد اس دعا کی اہمیت بھی سمجھ آتی ہے اور کن کن باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ دعا کرنی چاہئیے، یہ مضمون بھی ہم پر روشن ہو جاتا ہے۔آیت یہ ہے وقضى ربك ألا تعبد واللا إياه وبالوالدين إحسانا کہ اللہ تعالی نے یہ مقدر فرما دیا ہے فیصلہ کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی بجائے رنگ لفظ ہے یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و سلم تیرے رب نے یہ فیصلہ صادر فرما دیا ہے۔الا تعبد و الا اياه کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔وہابو الدین احسان اور والدین کے ساتھ احسان کا سلوک کرو۔والدین کے ساتھ نیکی کے برتاؤ کی اتنی بڑی اہمیت ہے کہ توحید کی تعلیم کے بعد دوسرے درجے پر خدا نے جس بات کا فیصلہ فرمایا وہ یہ تھا کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔احسان کا لفظ کن معنوں میں استعمال ہوا ہے اس کے متعلق میں پھر دوبارہ آپ سے بات کروں گا۔إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الكبر احدهما أو كلهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَاايْ وَلا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْل كريما كم إمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ العبد اگر ان میں سے کوئی تیرے ہوتے ہوئے تیری زندگی میں بڑھاپے تک پہنچ جائے، ان میں سے خواہ ایک پہنچے یا دونوں پہنچیں فَلا تَقُل لهما اف ان کو اف تک نہیں کہنی۔اف نہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے بڑھاپے میں ایسی حرکتیں ہو سکتی ہیں جو ان کے بچپن کے سلوک سے مختلف ہوں۔بچپن میں تو وہ بڑی رحمت کے ساتھ تمہاری تربیت کرتے رہے لیکن بڑھاپے کی عمر میں پہنچ کر انسان کو اپنے جذبات پر اختیار نہیں رہتا ، زیادہ زود رنج ہو جاتا ہے اور بہت سی صحت کی کمزوریاں اس کے مزاج میں چڑچڑا پن پیدا کر دیتی ہیں۔پھر کئی قسم کے احساسات محرومی ہیں۔اولاد بڑی ہو گئی۔اپنے گھروں میں آباد ہو گئی اور جس طرح والدین توقع رکھتے ہیں کہ یہ اپنی