ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 257
NMIN-SPEET ہالینڈ ر متی ۱۹۹۱ء 257 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ دعاؤں کے ذریعہ منزل مراد کا حصول تشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت اور مواصلاتی رابطے کا ذکر کرنے کے بعد حضور انور نے فرمایا :- اب میں اصل مضمون کی طرف لوٹتا ہوں جو ایک سلسلے کی صورت میں جاری ہوا ہے اور جس کا تعلق سوۃ فاتحہ کی اس دعا سے ہے کہ اهْدِنَا الفِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اے ہمارے اللہ ! ہمیں صراط مستقیم پر چلا اس صراط مستقیم پر جس پر وہ لوگ چلتے رہے جن پر تو نے انعام نازل فرمائے۔میں نے بتایا تھا کہ جن پر انعام نازل فرمائے گئے وہ دعاؤں کی بدولت اپنی مراد کو پہنچے ہیں محض انسانی کوششوں سے کامیاب نہیں ہوئے اور ہمارے لئے بھی سورۃ اتحہ کی اس دعا نے قرآنی دعاؤں کا ایک سلسلہ کھول دیا ہے اور اس سلسلے کا قرآن کریم میں مکمل طور پر ذکر محفوظ ہے۔صرف انبیا ء ہی کی دعائیں درج نہیں بلکہ دیگر صالحین اور خدا تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں ، مردوں اور عورتوں کی دعائیں بھی قرآن کریم میں ہمارے لئے محفوظ فرما دی گئی ہیں۔والدین کے لئے اولاد کی دعا آج کے لئے پہلی دعا اولاد کی دعا ہے جو اسے اپنے والدین کے لئے کرنی چاہیے۔اور یہ وہ دعا ہے جو الہامی دعا ہے ان معنوں میں کہ اللہ تعالٰی نے خود حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور آپکی امت کو سکھائی۔دعا تو یہ ہے۔وقُل رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيني صَغِيرًا (بنی اسرائیل : (۲۵) اے میرے